Home / Islam / دعوت اسلامی کا 40 سالہ سفر

دعوت اسلامی کا 40 سالہ سفر

یوم دعوت اسلامی ہے
خوشیاں مَنائیں اہلِ سُنتّ ، یومِ دعوتِ اسلامی ہے…خوب کریں اِظہارِ نعمت ، یومِ دعوتِ اسلامی ہے
دعوتِ اسلامی میں ہے بڑھتا عشق نبیؐ کا خوف خُدَا کا…بڑھتی ہے نیکی کی رَغبَت ، یومِ دعوتِ اسلامی ہے
فَضلِ خُدائے رَبُّ العِزّت،ہے اور لُطفِ ماہِ رِسالَت… ہم کو ملی اِصلاح کی دولت ، یومِ دعوتِ اسلامی ہے
جھوٹ سے غیب سے چُغلی سے، کرلے توبہ سوُئِ ظن سے…چھوڑ بُرائی کی ہر عادت ، یومِ دعوتِ اسلامی ہے
آئو !گُنہگارو آجائو! توبہ کرلو مت گھبرائو…ہوجائے گی رب کی رَحمت ، یومِ دعوتِ اسلامی ہے
چھوڑو نا فرمانیاں چھوڑو ، ’’نیک اعمال‘‘ سے رِشتہ جوڑو… رَحمت سے پائوگے جنَّت ، یومِ دعوتِ اسلامی ہے
پانچوں وَقت نمازیں پڑھنا ، تم رمضاں کے روزے رکھنا … کرنا رب کی خوب عبادت ، یومِ دعوتِ اسلامی ہے
اے اسلامی بھائیوں بہنو ! چُست بنو سُستی کو بھگائو … گھر گھر دو نیکی کی دعوت ، یومِ دعوتِ اسلامی ہے
فرمائی اللہ نے رَحمت ، کی تجھ کو عطار عِنایت … دعوتِ اسلامی کی نعمت ، یومِ عبادتِ اسلامی ہے

dawat e islami

رپورٹ

دعوتِ اسلامی تبلیغ قرآن و سنت کی ایک عالمگیر، غیرسیاسی اور پرامن تحریک ہے۔ دعوتِ اسلامی کے بانی مولانا محمدالیاس قادری 26 رمضان 1369ھ بمطابق 1950ءکو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ کی کنیت “ابوبلال”اور تخلص “عطار” ہے۔آپ نے دعوت اسلامی کی بنیاد دوستمبر 1981 ءمیں رکھی۔ یہ آپ کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مختصر سے عرصے میں دعوتِ اسلامی کا پیغام (تادم تحریر) دُنیا کے 200 ممالک میں پہنچ چکا ہے اور لاکھوں عاشقانِ رسول نیکی کی دعوت کو عام کرنے میں مصروف ہیں۔ مختلف ممالک میں کفار بھی مبلغین دعوت ِ اسلامی کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کی جہدمسلسل نے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کردیاجس کی بدولت وہ فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ سر پر عمامے اور چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی بھی سجالیتے ہیں۔ دعوتِ اسلامی ۹۷ مختلف شعبہ جات میں دین کی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ دعوتِ اسلامی کا غیر مسلموں میں تبلیغ کا بھی ایک پرامن طریقہ کار ہے‘ مدنی قافلے پاکستان اور دُنیا بھر میں جاتے ہیں،علاقاہی، تحصیل سطح، ڈویژن سطح، صوبائی سطح اور سالانہ بین الاقوامی اجتماعات منعقد کئے جاتے ہیں۔ دعوت اسلامی کا عالمی مدنی مرکز کراچی پاکستان میں فیضان مدینہ کے نام سے ہے‘ اسکے علاوہ بھی پاکستان و دُنیا بھر میں فیضان مدینہ کے نام سے ذیلی مراکز ہیں جن کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ دعوتِ اسلامی کا منشور ہے کہ ”مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔“ دعوت اسلامی کا اپنا ذرائع ابلاغ کا ایک وسیع نظام ہے۔ دعوتِ اسلامی نے 1996 میں ہی اپنی ویب سائٹ بنا لی تھی، جو اُردو میں پہلی اسلامی ویب سائٹ ہے۔ 2008ءمیں مدنی چینل کے نام سے ٹی وی چینل اُردو شروع کیا گیا، بعدازاں بنگلہ، اور انگریزی زبان میں چینلز بھی آن ائیر ہو چکے ہیں۔ اور عنقریب عربی مدنی چینل کی نشریات کا آغاز ہونے جارہا ہے ۔یہ پاکستان کا پہلا چینل ہے جو موسیقی اور اشتہارات نہیں دکھاتا‘یہ چینل دنیا کی 5سیٹلائٹس سے نشر ہوتا ہے۔ مولانا محمدعمران عطاری دعوتِ اسلامی کی مجلس شوریٰ کے نگران اور معروف مبلغ ہیں۔ آپ مولانا مشتاق قادری کی وفات کے بعد دعوت اسلامی کی مجلس شورٰی کے نگران بنا دیئے گئے تھے۔
اب ذیل میں دعوتِ اسلامی کے زیرانتظام چلنے والے چند اداروں کا تعارف کراتے ہیں۔

تعلیم و تربیت
دعوت اسلامی نے فیضان مدینہ، مدرسة المدینہ، دارالمدینہ اور جامعة المدینہ جیسے ناموں سے دُنیا بھر میں سینکڑوں دینی اور عصری تعلیم و تربیت کےلئے ادارے قائم کئے گئے ہیں‘ جلد ہی اسلام آباد میں دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، جس کو منظور کرا لیا گیا ہے۔ بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت کے حوالے سے دارالمدینہ انٹرنیشنل اسلامک سکول سسٹم کے نام سے پاکستان کے ہر بڑے شہر میں تعلیمی ادارے قائم کئے گئے ہیں۔ مدرسة المدینہ آن لائن کا بھی سلسلہ ہے جس کے تحت انٹرنیٹ کے ذریعے قرآن کی مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے کا نام مکتبة المدینہ ہے جس سے کتب و رسائل شائع کئے جاتے ہیں۔ مکتبة المدینہ سے شائع ہونےوالی مختلف کتب و رسائل کے جدا جدا زبانوں میں تراجم کر کے اسے دُنیا کے کئی ممالک میں بھیجنے کی ترکیب کی جاتی ہے‘ اس وقت دنیا کی 34 سے زائد زبانوں میں تراجم ہو رہے ہیں۔

مساجد و مدارس کی تعمیر
شہر شہر گاﺅں گاﺅں قریہ یا دُور دراز علاقوں میں مساجد نہیں تھیں، دعوت اسلامی نے مساجد تعمیر کیں اور قرب و جوار میں بسنے والے لوگوں کو نمازی بنانے اور مسجدوں کو آباد کرنے کی ترغیب دی، بعض مساجد سے ملحقہ مدارس بھی تعمیر کئے گئے ہیں تاکہ مقامی آبادی کے بچے دینی تعلیم بھی حاصل کر سکیں۔ مساجد و مدارس کی تعمیر کے حوالے سے ایک الگ شعبہ قائم کیا گیا ہے جہاں پر مختلف علاقوں کے رہائشی و مخیر حضرات رابطہ کر کے اپنے قریب مسجد و مدرسہ کی تعمیر کے ساتھ امام و مدرس کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔

گونگے بہرے افراد اور معذوروں کا شعبہ
معذور افراد ہمارے اپنے اور معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں، ان کی جسمانی کمزوری تو ہوتی ہے مگر وہ ذہنی طور پر انتہائی صحت مند اور کارآمد ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کی تعلیم یا ہنر بھی سکھایا جائے تاکہ ان میں احساس محرومی ختم ہو اور وہ معاشرے پر خود کو بوجھ نہ سمجھیں۔ دعوت اسلامی اس نیک فریضہ کو سرانجام دے رہی ہے، ایسے افراد کو درس و تدریس کے ساتھ ساتھ ہنر سے بہرہ مند بھی کیا جاتا ہے، ہزاروں معذور افراد اس وقت بھی دعوت اسلامی میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

عشروزکوٰة کے شعبہ جات
دعوت اسلامی کے زیراہتمام عشر اور زکوٰة کےلئے دو الگ الگ شعبہ جات قائم ہیں۔ دنیا بھر میں سودی نظام نے معاشی نظام کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، ہمارے معاشرے میں بھی زکوٰة پوری طرح رائج نہ ہونے کی وجہ سے عدم توازن قائم ہو گیا ہے، یوں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ اللہ عزوجل اور اسکے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ثروت کےلئے زکوٰة کو فرض قرار دیا ہے تاکہ تقسیم دولت ہو۔ اسلام میں رزق حلال کو اکٹھا کرنے سے منع نہیں کیا مگر یہ ضروری ہے کہ ایک سال میں جمع مال و زر پر اڑھائی فیصد زکوٰة ادا کر دی جائے‘ ایسا کرنے سے ایک طرف اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے تو دوسری طرف وہ مال پاک و صاف ہو جاتا ہے۔

اصلاح اعمال:
جس طرح انسان اپنے جسم کو تندرست چست و توانا رکھنے کےلئے روزانہ ورزش کرتا ہے، شروع کے دنوں میں آسان ورزش کی جاتی ہے اور پھر دن بہ دن اس میں سختی اور شدت لائی جاتی ہے تاکہ جسم کے پٹھے اس ورزش کے عادی ہو جائیں، بعدازاں ورزش اس کی زندگی کا معمول بن جاتی ہے جس سے وہ کئی بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔ اسی طرح انسانی روح کی غذا عبادت اور صالح اعمال ہیں۔ بعض لوگوں کو گھر، دفتر میں دینی ماحول میسر نہیں ہوتا اور وہ دنیاوی معاملات میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ ان کے پاس نماز، روزہ، حج و زکوٰة کے ساتھ دیگر عبادت کےلئے وقت ہی نہیں ہوتا اور بعض لوگ گناہوں میں اس قدر گھر جاتے ہیں کہ اس دلدل سے نکلنا ان کےلئے انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ جہاں تک ہدایت اور دل بدلنے کی بات ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر کسی کو نیک بنانے کےلئے کوشش تو کی جا سکتی ہے۔ دعوت اسلامی میں مدنی انعامات سے مراد ایک عام شخص کو آسان طریقے سے نیکی کی طرف لانا ہے۔ شروع شروع میں اچھی اچھی نیتیں کرنے، نماز پنجگانہ، تلاوت قرآن پاک اور اخلاقیات کی ترغیب دی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ اس کے وقت کو نیک کاموں کےلئے وقف کرنے کی پریکٹس کروائی جاتی ہے۔ ایک چھوٹا سا کتابچہ جس میں ایک دن کا شیڈول تحریر ہوتا ہے جسے پر کرنا ہوتا ہے، کچھ عرصہ کی مشق کے بعد ایک بندہ خودبخود مدنی ماحول اور نیک کاموں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔

دارالسنہ اور مدنی قافلے :
دعوت اسلامی میں عاشقان رسول کے مدنی قافلے نہ صرف اندرون ملک، شہر، قریہ قریہ، گاﺅں گاﺅں سفر کرتے ہیں بلکہ بیرون ملک میں بھی دعوت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ دنیا بھر کے200ممالک کے مختلف شہروں میں فیضان مدینہ مراکز اور تربیت گاہیں قائم ہیں، ان کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ایک شخص مدنی ماحول میں رہے، نیکیاں کرے اور خود کو بدلنے کی کوشش کرے اور اپنی اخروی زندگی کےلئے سازوسامان اکٹھا کرے۔

معاشی نظام
کسی بھی ملک و قوم کی بنیاد معاشی نظام ہوتا ہے، اسلام نے دنیا کو ایک ایسا عادلانہ معاشی نظام دیا جو کیپٹل ازم اور سوشل ازم کی نفی کرتا ہے اور آجر اور اجیر کے درمیان بہترین تعلقات استوار کرنے کا درس دیتا ہے۔ اسلام ”مزدور کو اس کی اجرت پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنے“ کا حکم دیتا ہے۔ اسلام میں حلال روزی کمانے کو عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے، اگر کوئی شخص اپنے مال میں سے زکوٰة ادا کرتا ہے اور عزیز و اقرباءہمسائے کا خیال رکھتے ہوئے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اس کے بعد اپنے اہل و عیال کی کفالت کرتا ہے تو یہ مقبول فعل ہے۔ دعوت اسلامی کے زیراہتمام ملک بھر میں تقریباً 30ہزار سے زائد اجیر ہیں جن کی تقرری اور اُجرت طے کرتے ہوئے قرآن و سنت کے اصولوں کو سامنے رکھا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ آجر اور اجیر کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے سرانجام پائیں۔
محب وطن و فلاحی تحریک
14 اگست جشن آزادی کے موقع پر امیر اہل سنت نے اپنے پیغام میں کہا کہ میں پاکستانی ہوں اور یہاں رہنا ہی پسند کرتا ہوں حالانکہ دعوت اسلامی دُنیا بھر میں موجود ہے مگر میرا ملک پاکستان ہے اور میں اس سے بے حد پیار کرتا ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس روز قرآن پاک کی تلاوت، دو نفل، ملک و قوم کی سلامتی کی دُعائیں اور ہدیہ شکر بجا لانا چاہئے۔ دعوت اسلامی ملک کے سلامتی کے اداروں کا بے حد احترام کرتی ہے۔ دعوتِ اسلامی قیام پاکستان، تکمیل پاکستان اور استحکام پاکستان پر مکمل یقین رکھتی ہے اور قائداعظم محمدعلی جناح کو پاکستان کا بانی تسلیم کرتی ہے۔

سماجی و فلاحی کاموں میں دعوت اسلامی کا کردار
وطن عزیز میں جب بھی گہانی و ناگہانی آفت آئی، دعوت اسلامی مشکل کی اس گھڑی میں ہمیشہ پیش پیش رہی۔ سیلاب، زلزلہ، طوفانوں سے انسانی و مالی املاک کو جب نقصان پہنچنے کے خطرات لاحق ہوئے تو دعوت اسلامی کے لاکھوں کارکن مدد کےلئے آگے آئے اور ملک کے دُور و دراز علاقوں میں جا کر متاثرین کو طبی، مالی، اخلاقی معاونت فراہم کی۔ یہ سلسلہ آفت زدہ دنو ںمیں ہی نہیں بلکہ سارا سال جاری رہتا ہے۔

دارالافتاءاہل سنت و آن لائن :
لوگوں کے شرعی مسائل کے حل کےلئے شعبہ ”دارالافتائ“ قائم کیا گیا ہے جہاں دعوت اسلامی کے مبلغین و مفتی کرام بالمشافہ، تحریری اور خطوط کے ذریعے شرعی مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ تمام فتوے کمپیوٹر پر کمپوز کر کے باقاعدہ تصدیق کےساتھ دئیے جاتے ہیں، اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی ویب سائٹ www.dawateislami.net پر شرعی مسائل اور دنیا بھر میں دینی پیغامات پہنچائے جاتے ہیں۔ اسی ویب سائٹ پر دنیا بھر سے لوگوں کے پوچھے گئے سوالات کے جوابات بالمشافہ، آن لائن، میل اور فیکس بھی کئے جاتے ہیں۔

دعوت اسلامی پبلی کیشنز
دعوت اسلامی کا وسیع پبلی کیشنز نظام جس کے تحت سینکڑوں تصانیف شائع ہوتی ہیں جن میں کتب، رسائل، ڈائریاں، کیلنڈر، چھوٹے کتابچے اور مدنی پھول شامل ہیں، بانی تحریک و امیر اہل سنت مولانا محمدالیاس عطار قادری کی تحریر کردہ کتب لاکھوں کی تعداد میں خدمت دین کے جذبے کے تحت انتہائی کم قیمت میں شائع کی جاتی ہیں۔ یہاں پر اس بات کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ اہل ثروت لوگ یہ کتب و رسائل خرید کر لوگوں کو مطالعہ کےلئے مفت پہنچائیں تاکہ نیکی و دعوت کا کام آگے بڑھ سکے۔

مدنی چینل
مدنی چینل کا اندریں حالات میں آغاز ہوا جب لادینی اور انتہائی غیراخلاقی فضاءہمارے اردگرد موجود تھی، میڈیا اور چینلز پر اصلاح اُمت کےلئے کوششیں معدوم ہوتی نظر آ رہی تھیں تو ایسے وقت میں ایک ایسے چینل کی ضرورت محسوس ہوئی جوکہ خالصتاً دینی اور اصلاحی ہو مگر مسئلہ یہ تھا کہ اتنا مہنگا پراجیکٹ شروع کئے کیا جائے اور اگر شروع کر بھی لیا جائے تو اس ہاتھی کو کون پال سکے گا کیونکہ روزانہ کی بنیاد پر سیٹلائٹ کا خرچہ اس قدر زیادہ ہے کہ افورڈ کرنا مشکل تھا چنانچہ چند عاشق رسول احباب نے اس کےلئے پلاننگ کی اور اللہ کی مہربانی سے اس پراجیکٹ کا آغاز ہو گیا۔ اوائل میں تو وسائل نہ ہونے کی بناءپر سٹوڈیوز و دیگر لوازمات کی بہت کمی تھی مگر الحمدللہ آہستہ آہستہ اس میں بہتری آنا شروع ہو گئی۔ یہاں پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹیکنیکل طریقے سے سبز رنگ کی ایمی نیشن الیکٹرانک میڈیا پر قابل قبول نہیں ہوتی، ٹیکنیشنز اس بات سے ڈر رہے تھے کہ سبز رنگ میں Lay Out نامناسب ہے مگر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے یہ سبز رنگ اس قدر اچھا لگا اور مقبول ہوا کہ بعض دیگر چینلز نے تقلید کرتے ہوئے سبز رنگ کو اپنا لیا۔ ایک وضاحت طلب بات یہ ہے کہ مدنی چینل پیمرا کے قوانین کی مکمل پابندی کرتا ہے، ٹیکس ادا کرتا ہے اور سیٹلائٹ کے اخراجات بھی بروقت ادا کرتا ہے، یہاں تک کہ ادائیگی کے حوالے سے ایک دن کی بھی تاخیر نہیں کی جاتی۔ اس کے علاوہ مدنی چینل بنگلہ اور مدنی چینل انگلش آن ائیر ہے جس سے مسلمان مستفید ہو رہے ہیں۔

ماہنامہ میگزین
تبلیغ قرآن و سنت کی عالمی غیرسیاسی تحریک دعوت اسلامی کی جانب سے ماہنامہ ”فیضانِ مدینہ“ کا اجراءکر دیا گیا ہے۔ ماہنامہ ”فیضانِ مدینہ“ میں تفسیر قرآن‘ حدیث شریف‘ مدنی مذاکرے کے سوال و جواب‘ احکام تجارت‘ نوجوانوں کے مسائل‘ پھلوں او سبزیوں کے فوائد‘ مکتوبات امیر اہل سنت‘ مدنی کلینک‘ دارالافتاءاہل سنت‘ منقبت‘ روحانی علاج‘ دعوت اسلامی کی مدنی خبروں کے علاوہ اور بہت سا مفید مواد شامل کیا گیا ہے۔ یہ ماہنامہ 68 صفحات پر مشتمل ہے جس کا شمارہ کلر اور بلیک اینڈ وائٹ شائع کیا گیا ہے۔ تازہ شمارے میں اُردو کے علاوہ انگریزی کے صفحات بھی شامل کئے گئے ہیں۔ ماہنامہ ”فیضانِ مدینہ“ کو دعوت اسلامی کی ویب سائٹ www.dawateislami.net پر آن لائن پڑھا اور ڈاﺅن لوڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس رسالے کا انگلش ایڈیشن علیحدہ سے شائع کیا جاتا ہے۔

فیضان گلوبل ریلیف فاﺅنڈیشن اور اس کے ذیلی شعبہ جات
فیضان گلوبل ریلیف فاﺅنڈیشن کے ذیلی شعبہ جات
فیضان گلوبل ریلیف فاﺅنڈیشن دعوت اسلامی کا ریلیف کا محکمہ ہے جس کے تحت مختلف امور سرانجام دئیے جاتے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:شرعی رہنمائی ڈیسک۔ تمام فلاحی کاموں کی شرعی رہنمائی‘ میڈیکل، بلڈ کیمپس، طبی علاج، ہیلتھ کیئر سنٹر، تھیلی سیمیا فری پاکستان‘ شجرکاری‘ ایجوکیشن، فیضان ری ہیبلی ٹیشن سینٹر، سکلز ان ہنسٹمنٹ پروگرامز اور فوڈ ڈسٹری بیوشن، ڈیزاسٹر مینجمنٹ۔

شرعی رہنمائی ڈیسک:
ایف جی آر ایف کے اس ذیلی شعبہ میں مفتیانِ کرام اور علمائے کرام کا ایک شرعی بورڈ ہو گا جوکہ دعوت اسلامی کے شعبہ ایف جی آر ایف کے تمام ذیلی شعبوں کے کاموں کی شرعی اعتبار سے جانچ پڑتال کرےگا کہ آیا جو فلاحی کام ہم کرنے جا رہے ہیں، شرعی اعتبار سے اس کا کرنا کیسا ہے یعنی باعث ثواب ہے یا نہیں اور اس کو مزید شرعی طریقے سے احسن انداز میں کس طرح کر سکتے ہیں۔ یہ تمام شرعی تفتیش میں اوکے ہونے کے بعد ہم اس پراجیکٹ کو شروع کرینگے۔
میڈیکل: ایف جی آر ایف کا دوسرا ذیلی شعبہ میڈیکل کا ہے۔ اس شعبہ میں میڈیکل سے متعلقہ معاملات کو دیکھا جائےگا۔ شعبہ میڈیکل کے تحت ہی ہزاروں عاشقان رسول کو سالانہ طبی علاج کی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔ دعوت اسلامی کے تحت ملک بھر میں کئی مقامات پر ڈسپنسریوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ کراچی میں فیضان مدینہ میں ایک ہسپتال قائم کیا گیا ہے جس میں سالانہ ہزاروں افراد کو طبی سہولیات مفت مہیا کی جاتی ہیں۔ اس مد میں سالانہ کروڑوں روپے کے اخراجات ہو رہے ہیں۔

تھیلی سیمیا:
کووڈ 19 کے دوران تھیلی سیمیا کے مریضوں کو خون کے عطیات کی شدید کمی ہوئی، اسی مرض کی وجہ سے متعدد مریض جاں بحق بھی ہو گئے، اس نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے امیر اہلسنّت مولانا محمدالیاس عطار قادری نے دعوت اسلامی کے تمام ذمہ داران کو خصوصی ہدایات جاری کیں کہ تھیلی سیمیا کے مریضوں کی مدد کےلئے فوری اور ہنگامی طور پر اقدامات کئے جائیں لہٰذا اسی شعبہ کے تحت دعوت اسلامی کی جانب سے مئی 2020ءسے جنوری 2021ءتک پاکستان بھر کے 105 شہروں میں بلڈ کیمپس لگائے گئے جہاں سے 40 ہزار سے زائد بلڈ بیگز ملک بھر کے نامور بلڈ بینکس میں جمع کروائے جا چکے ہیں (یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے) کورونا جیسی مہلک وبائی صورتحال میں جب لوگ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اور گھروں سے باہر نکلنے سے بھی کترا رہے تھے، اس وقت تھیلی سیمیا اور دیگر مریضوں کےلئے بلڈ بینکس میں بلڈ ڈونرز کے نہ آنے کی وجہ سے ان مریضوں کی جانوں کو خطرہ تھا۔ جب امیر اہلسنّت کو اس صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا گیا تو آپ نے تمام دعوت اسلامی والوں کو خون کے عطیات دینے کی ہدایت فرمائی، پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہی بلڈ سنٹر جو خون مانگ رہے تھے دعوت اسلامی کے رضاکاروں کی دی گئی خون کی بوتلوں کو دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ہماری ضرورت پوری ہو گئی ہے۔

تھیلی سیمیا فری پاکستان مہم:
دعوت اسلامی کے شعبہ ایف جی آر ایف کے تحت فیضان مدینہ کراچی میں تھیلی سیمیا کے مریضوں کی مدد کرنے اور اس مرض سے پاک پاکستان کےلئے کانفرنس کا انعقاد سال 2020ءکے آخر میں ہوا جس میں ملک بھر سے تھیلی سیمیا کے مرض کے حوالے سے کام کرنے والے اداروں کے سربراہان اور نمائندوں نے بھرپور شرکت کی جس میں اس مرض کو پاکستان سے مکمل طور پر ختم کرنے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر دعوت اسلامی کی طرف سے ”تھیلی سیمیا فری پاکستان“ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا گیا جس میں دعوت اسلامی ابتداءمیں اپنے ذمہ داران، طلباءاور دیگر عاشقان رسول کی رجسٹریشن کا عمل شروع کرےگی۔ پہلے مرحلے میں 12لاکھ افراد کی رجسٹریشن کی جائےگی اور ان تمام افراد کے بلڈ ٹیسٹ کئے جائینگے جن کو دیکھا جائےگا کہ ان میں تھیلی سیمیا مانئر اور تھیلی سیمیا میجر کے کتنے افراد ہیں۔ پھر ان کی تھیلی سیمیا کے حوالے سے رہنمائی کی جائےگی اور ان کو احتیاطی تدابیر بھی بتائی جائیں گی۔ اس طرح پہلے مرحلے میں 12 لاکھ افراد کی رجسٹریشن اور ٹیسٹنگ رپورٹس سے حکومتی اداروں کو آگاہ کیا جائےگا تاکہ وہ بھی اس مرض کےلئے دعوت اسلامی کےساتھ مل کر مزید کوششیں کر سکیں۔

شجرکاری:
جس طرح وقتاً فوقتاً سائنس ترقی کرتی جا رہی ہے اسی رفتار سے دنیا خصوصاً پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کے دھوئے اور فیکٹریوں کی جانب سے پھیلائی جانےوالی فضائی آلودگی سے زمین کا درجہ حرارت بھی بڑھتا جا رہا ہے، مھوسمی حالات میں شدت اور انسانی زندگی پر اس کے مضر اثرات مرتب ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے شجرکاری مہم کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ اس موقع پر دعوت اسلامی کی طرف سے بھی اس نیک کام میں بھرپور انداز میں شرکت کا فیصلہ کیا گیا جس میں بانی دعوت اسلامی نے ”دعوت اسلامی ایک ارب پودے لگائے گی“ کا اعلان فرمایا جس کو عملی جامہ پہنانے کےلئے اب تک کئی لاکھ پودے دعوت اسلامی اور عاشقان رسول کی طرف سے لگائے جا چکے ہیں اور مزید کوششیں بھی جاری ہیں۔ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ اور اس سے متعلقہ حکومتی عہدیداروں سے بھی دعوت اسلامی کے روابط اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے جن کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے۔

ہیلتھ کیئر سنٹر:
ایف جی آر ایف کے تحت دعوت اسلامی مستقبل قریب میں ہیلتھ کیئر سنٹر بنانے جا رہی ہے جس میں ماہر ڈاکٹرز دستیاب ہونگے جن سے براہ راست یا فون کال کے ذریعے مریض کے مرض کی نہ صرف نشاندہی کی جائےگی بلکہ ان کی رہنمائی بھی کی جائے گی۔ عموماً ایسے مریض جن کو اپنے مرض کے حوالے سے بھی آگاہی نہیں ہوتی تو وہ مختلف قسم کے عطائی اور غیر پیشہ ور ڈاکٹرز کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور اس طرح ان کو صحت اور مالی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

ایجوکیشن:
ایجوکیشن بھی ایف جی آر ایف کا ذیلی شعبہ ہے۔ اس شعبہ میں فیضان ری ہیبلی ٹیشن سنٹر بنایا گیا ہے جوکہ اس وقت کراچی میں شروع ہو چکا ہے۔ اس سنٹر کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ایک ڈاکٹر، ایک ماہر نفسیات اور ایک سپیج تھراپسٹ بھی ہو گا جوکہ اس سنٹر میں داخل ہونےوالے بچوں کی ری ہیبلی ٹیشن کےلئے کام کرینگے اور ایسے بچے جو نفسیاتی طور پر کمزور و خوف کا شکار بچے، جسمانی طور پر کمزور اور قوتِ سماعت سے کمزور بچوں کی تربیت کا سلسلہ ہو گا اور ان بحالی مراکز سے بچے معاشرے کا کارآمد فرد بن کر نکلیں گے۔

سکلز ان ہینسٹمنٹ پروگرام:
اس پروگرام کے تحت چائینز، انگلش، عربی، فرنچ اور دیگر زبانوں کو سکھانے کے کورسز کروائے جا رہے ہیں، اس کے علاوہ مختلف مقامات پر کمپیوٹر کورسز کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ فوڈ ڈسٹری بیوشن:
ایف جی آر ایف کا ایک ذیلی شعبہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور فوڈ ڈسٹری بیوشن کا بھی ہے جس میں دعوت اسلامی کے رضاکاران کو باقاعدہ طور پر سرکاری اداروں کے ذریعے وقتاً فوقتاً ریسکیو کی تربیت دی جاتی ہے اور ان کو پروفیشنل انداز میں لوگوں کی مدد کرنے اور ناگہانی صورتوں میں اپنی حفاظت کرنے کےساتھ ساتھ متاثرین کی مدد کرنے کی بھی تربیت دی جا رہی ہے۔ ڈیزاسٹرز آنے کی صورتوں میں دعوت اسلامی کے ذمہ داران عاشقان رسول کی مدد کرنے کےلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ کووڈ 19 اور کراچی میں ہونےوالی بارشوں کی وجہ سے نقصانات اور سیلاب زدگان کےلئے اس شعبہ سے بھرپور انداز میں لوگوں کے گھروں تک پہنچ کر اور ان کی عزتِ نفس کا خیال کرتے ہوئے کم وبیش 24 لاکھ سے زائد افراد کی (جوکہ مستحق تھے) ان کی مدد کی گئی اور تاحال مختلف جگہوں پر امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ ان امدادی اشیاءمیں خشک راشن، پکا ہوا کھانا اور نقدی بھی شامل ہیں۔ سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے جن کی عمارتوں یا فصلوں کو نقصان پہنچا، ان کی بھی نقدی کی صورت میں امداد کی گئی۔

About Ayub Ahmad Khosa

SJPasia

Leave a Reply