Home / Blogs / ‏نیک بیوی کی صفات (آخری حصہ)

‏نیک بیوی کی صفات (آخری حصہ)

young muslim woman praying for Allah, muslim God

 تحریر: عظمیٰ عبدالکریم

‎@uzma_kreem

نیک بیوی کو صبر اور ضبط کا بہترین نمونہ ہونا چاہئے. اگر عورت پر یا اہل خانہ میں سے کسی پر بیماری یا کوئی آزمائش ٹوٹ پڑے تو عورت کو صبر اور شکر کا مظاہرہ کرنا چاہئے. مرد صبر کے معاملے میں عورت سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور اگر عورت بے صبری کا مظاہرہ کرتی ہے تو مرد بھی صبر کھو بیٹھتا ہے. صبر کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے خاص انعامات اور اکرامات کا وعدہ کر رکھا ہے.

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ﴿١٥٥﴾ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ﴿١٥٦﴾ أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ.

“اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے. وہ لوگ کہ جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں. یہی لوگ ہیں جن کے لیے ان کے رب کی طرف سے بخشش اور رحمت ہے اور یہی ہدایت یافتہ ہیں”
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں صبر اور ضبط اور شوہر کو خوش کرنے کا واقعہ موجود ہے جو قیامت تک آنے والی تمام بیویوں کے لئے قابل رشک اور قابل تقلید ہونا چاہئے. صبر کا بہترین نمونہ صحابیہ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پیش کیا جس میں قیامت تک آنے والی مسلمان عورتوں کے لیے بہترین سبق ہے. حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ، انکی عظیم اہلیہ محترمہ حضرت اُمِّ سُلَیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے فوت ہو جانے والے بچے کا واقعہ ہے. یہ واقعہ صحیح احادیث میں مفصل موجود ہے، یہاں بوجہ طوالت واقعہ ذکر نہیں کیا جا رہا.

مسلمان عورت کی ایک اہم صفت شکر گزاری ہے، یعنی عسر و یسر، خوش حالی اور تنگ دستی حتٰی کہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا کرے اور اپنے خاوند کی بھی شکر گزار رہے. بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ بگاڑ کی طرف جا رہا ہے. بیوی کا شوہر کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی بھی ناشکری بنتی جا رہی ہے. جس کی وجہ سے گھر تباہ ہو رہے ہیں. اللہ تعالیٰ کی اور خاوند کی ناشکری ایک بڑا جرم ہے.
عَنْ عَبْدِاللہ بْنِ عَبَّاسٍ (قَالَ فِی حَدِیثِ خُسُوفِ الشَّمْسِ عَلٰی عَهْدِ رَسُولِ اللہ ﷺ، قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ) وَرَأَیْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ کَالْیَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَأَیْتُ أَکْثَرَ أَهْلِھَا النِّسَاءَ، قَالُوا: لِمَ یَارَسُولَ اللہ! قَالَ بِکُفْرِھِنَّ، قِیلَ یَکْفُرْن بِاللہِ ؟ قَالَ یَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ وَیَکْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ الٰی اِحْدَاھُنَّ الدَّھْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَیْئًا قَالَتْ: مَا رَأَیْتُ مِنْکَ خَیْرًا قَطّ.
اس حدیث مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ
“حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں سورج گرہن کا واقعہ بیان فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو خوف کی نماز پڑھائی، اس نماز میں آپ کو جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کروایا گیا، نماز کے بعد آپ رسولﷺ نے اس کی کچھ تفصیل بیان فرمائی. اس میں آپ رسولﷺ نے فرمایا:
’’میں نے جہنم کو بھی دیکھا، اور اس جیسا (ہولناک) منظر جو میں نے آج دیکھا، ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا. اور میں نے جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی. صحابہ کرام نے پوچھا، اللہ کے رسولﷺ! اس کی وجہ کیا ہے کہ جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہے؟ آپ رسولﷺ نے فرمایا، عورتوں کا ناشکری کرنا.
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے پوچھا، کیا اللہ کی ناشکری کرنا؟ آپ رسولﷺ نے فرمایا: (نہیں) وہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں اور اس کے احسان کو تسلیم نہیں کرتیں. اگر تم ان میں سے (بیوی) کسی کے ساتھ زندگی بھر احسان کرتے رہو، پھر وہ تم سے کوئی ایسی بات دیکھ لے (جو اس کے مزاج اور طبیعت کے خلاف ہو) تو وہ کہے گی، میں نے تو تیرے ہاں کبھی سکھ دیکھا ہی نہیں”
حدیث میں مذکور واقعے سے عورتوں کی ایک بہت بڑی کمزوری کا پتہ چلتا ہے. عورتوں کی کمزوری ہے اپنے خاوند کی ناشکری. عورت مرد کی رفیقِ حیات اور شریکِ سفر ہے. ہر مرد اور عورت پر زندگی میں نشیب وفراز اور حالات میں مدّو جزر آتے رہتے ہیں، پیار و محبت اور اخلاق کا تقاضا یہی ہے کہ کبھی مرد کسی مشکل میں پھنس جائے تو ایسی حالت میں بھی بیوی کو چاہئے کہ مرد کا اسی طرح ساتھ دے جیسے خوشی اور آسانی میں ساتھ دیتی تھی. ناشکری بن کر اپنے شوہر کی دل شکنی نہ کرے بلکہ باوفا اور باشعار بیوی کی طرح اپنے شوہر اور اللہ تعالیٰ کی شاکرہ اور صابرہ بن کر رہے.
ناشکری سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے نبی کریم، رسولﷺ نے حل بھی بتا دیا.
إِذَا نَظَرَ أَحَدُکُمْ إِلٰی مَنْ فُضِّلَ عَلَیْهِ فِی الْمَالِ وَالْخَلْقِ، فَلْیَنْظُرْ إِلٰی مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ عَلَیْهِ.
“جب تم میں سے کوئی ایسے شخص کو دیکھے جو مال و دولت اور پیدائش (حسن و جمال) میں اس سے زیادہ حیثیت رکھنے والا ہو تو وہ ایسے شخص کو بھی دیکھے جو (مذکورہ حیثیتوں کے اعتبار سے) اس سے کمتر ہو”
مطلب اس ارشاد نبویؐ سے مراد ہے کہ ہمیشہ اپنے سے نیچے والے بندے کو دیکھو، صحت کے حوالے سے کسی بیمار اور معذور کو دیکھو، پیسے کے حوالے سے کسی غریب کو دیکھو، اسی طرح اگر سواری کی ضرورت ہے تو کار والے کو دیکھنے کی بجائے سائیکل والے یا پیدل شخص کو دیکھو. اس طرح تم اللہ تعالیٰ اور اپنے شوہر یا والدین کی ناشکری سے بچ جاؤ گے.

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

خَصْلَتَانِ مَنْ کَانَتَا فِیهِ کَتَبَهُ اللہ شَاکِرًا صَابِرًا وَمَنْ لَّمْ تَکُونَا فِیهِ لَمْ یَکْتُبْهُ اللہ شَاکِرًا وَلَا صَابِرًا، مَنْ نَظَرَ فِی دِینِهِ إِلٰی مَنْ هُوَ فَوْقهُ فَاقْتَدٰی بِهٖ۔ وَمَنْ نَظَرَ فِی دُنْیَاہُ إِلٰی مَنْ ھُوَ دُونَهُ فَحَمِدَاللہ عَلٰی مَا فَضَّلَهُ بِهٖ عَلَیْهِ کَتَبَهُ اللہ شَاکِرًا وَ صَابِرًا وَمَنْ نَظَرَ فِی دِینِهِ إِلٰی مَنْ ھُوَ دُونَهُ وَنَظَرَ فِی دُنْیَاہُ إِلٰی مَنْ ھُوَ فَوْقَهُ فَأَسِفَ عَلَی مَا فَاتَهُ مِنْهُ لَمْ یَکْتُبْهُ اللہ شَاکِرًا وَلَا صَابِرًا.
“دو خصلتیں ایسی ہیں جس میں وہ ہوں گی، اللہ تعالیٰ اسے شاکر و صابر لکھ دیتا ہے اور جس میں وہ نہیں ہوں گی، اسے اللہ شاکر و صابر نہیں لکھتا. جوشخص اپنے دین کے معاملے میں ایسے شخص پر نظر رکھتا ہے جو اس سے بڑھ کر ہے، پھر اس کی اقتداء کرتا ہے اور دنیا کے معاملے میں اس شخص کو دیکھتا ہے جو اس سے کمتر حیثیت کا حامل ہے، پھر اس بات پر اللہ کی حمد کرتا ہے کہ اللہ نے اس کو اس پر فضیلت عطا کی ہے. (ان دو خصلتوں کے حامل شخص کو) اللہ تعالیٰ شاکر اور صابر لکھ دیتا ہے. اور جو شخص اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے کمتر (دیندار) کو دیکھتا ہے اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے برتر (مال دار) کو دیکھتا ہے اور پھر جو اسے (دنیا کے مال و اسباب سے) میسر نہیں ہے اس پر افسوس کا اظہار کرتا ہے، تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ نہ شاکر لکھتا ہے اور نہ ہی صابر.
اس ارشادِ نبویؐ سے سبق ملتا ہے اگر آپ اللہ تعالیٰ کے ہاں صابر اور شاکر بننا چاہتے ہیں تو دین کے کاموں میں ہمیشہ اپنے سے زیادہ متقی اور پرہیز گار شخص کو دیکھو اور اس پر رشک کرو. دوسری صورت میں اگر تم دین کے کاموں میں خود سے نیچے والے کو دیکھو گے جو آپ سے کم عمل کرنے والا اور پرہیزگاری میں کم ہے، دنیا کے معاملات میں خود سے زیادہ مالدار کو دیکھتے ہو اور اپنے پاس موجود مال پر افسوس کرتے ہو تو تم اللہ تعالیٰ کے ہاں بے صبرے ہو، نا شکرے ہو.

About Uzma Kareem

Freelance Journalist, Writer Blogger/Columnist for @TheAsiaToday theasiatoday.com, Social media activist.

Leave a Reply