Home / Islam / قرآن اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ

قرآن اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ

hazrat umar farooq

we need to change ourselves
عبد المعید زبیر
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو ہر صحابی باکمال و باصفات نظر آتا ہے۔ ہر ایک اپنی جگہ عظیم مقام رکھتا ہے۔ مگر ان تمام میں سے عشرہ مبشرہ کو فضیلت حاصل ہے، پھر ان دس میں سے خلفاءراشدین کو عظیم مقام عطا کیا گیا۔ پھر ان چاروں میں شیخین (ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) کو بلند مرتبہ عطا کیا گیا، اور ان دنوں میں سے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو بلند درجہ دیا گیا۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا کہ ” انبیاءعلیہم السلام کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام انسانوں میں افضل ہیں”.
اسی طرح عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا کہ” میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا”۔ یہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لیے بہت بڑا اعزازہے، جو سوائے ان کے کسی کو عطاءنہیں کی گیا۔
اسی طرح ایک اور بہت عظیم مقام سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو عطاءکیا گیا، جو کسی اور کو نہ ملا۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بات پر اپنا کلام فرمایا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وجہ سے قرآن مجید میں کچھ احکامات بیان کیے۔ جسے موافقات عمر کہا جاتا ہے۔۔ انکی تعداد میں مختلف اقوال ہیں، مگر مشہورواقعات ہیں۔ جنہیں ہم مختصرا بیان کریں گے ۔
ایک دفعہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہودیوں کے درمیان بیٹھے ان سے نبی کریمﷺکے بارے رائے معلوم کر رہے تھے کہ کیا تمہیں اس شخص پر یقین نہیں کہ وہ سچا نبی ہے۔ یہودی کہنے لگے کہ ہمیں اس شخص پر پورا یقین ہے مگر جو فرشتہ پیغام لے کر آتا ہے، ہمیں اس سے نفرت ہے۔ ہم اس کے دشمن ہیں۔ جس کی وجہ سے نبی کریم ﷺپر ایمان نہیں لاتے۔ تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ جو ان فرشتوں میں سے کسی کا دشمن ہے، اللہ ان کا دشمن ہے۔ یہ کہہ کر وہاں سے اٹھے اور سیدھے بارگاہ رسالت میں تشریف لائے تو وحی نازل ہو گئی کہ”من کان عدوا للہ ومالئکتہ۔۔۔۔۔الخ”۔
اسی طرح جب آپ ﷺ طواف کعبہ سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کے بارے میں آپ ﷺسے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺیہی ہمارے باپ کا مقام ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا! ہم اس جگہ کو نماز کی جگہ بنا لیں؟ تو وحی نازل ہو گئی کہ” واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی”۔
اسلام سے قبل شراب نوشی بہت عام تھی۔ چوں کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اسلام سے پہلے شراب پیتے تھے تو اسلام لانے کے بعد بھی پی لیا کرتے تھے۔ کچھ واقعات ایسے رونماءہوئے جو شراب کی وجہ بنے۔ شراب کے بارے حرمت شدید نہیں تھی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شراب کی حرمت بارے دعا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ” یسئلونک عن الخمر والمیسر، قل فیہما اثم کبیر۔۔۔۔ الخ”۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر وہی دعا کی کہ یا اللہ! ہمارے لیے شراب کا واضح حکم نازل کردے۔ تو اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا کہ ” لاتقربوا الصلٰوة وانتم سکاری۔۔۔۔ الخ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سہ بارہ وہی دعا کی کہ یا اللہ! ہمرے لیے شراب کا واضح حکم نازل کردے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے تیسرے ارشاد میں شراب کو بالکلیہ حرام قرار دے دیا کہ ”انما الخمر والمیسر والانصاب رجس من عمل الشیطٰن۔۔۔الخ”۔
ابتدا اسلام میں رمضان المبارک کے دن کے ساتھ ساتھ رات میں بھی عورت سے ہمبستری کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ایک رات ایسا عمل ہو گیا تو صبح آپ ﷺ کے پاس یہ مسئلہ لے کر آئے کہ پورا مہینہ صبر کرنا ہمارے لیے مشکل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے رمضان کی رات میں ہمبستری کی اجازت دے دی کہ ” احل لکم لیلة الصیام الرفث الی نسائکم۔۔۔۔الخ”۔
ایک یہودی اور منافق کا کسی مسئلہ پر جھگڑا ہوا تو وہ آپ علیہ السلام کے پاس فیصلہ لے کر آئے۔ آپ ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں کردیا۔ منافق نے دل میں سوچا کہ عمر کو یہودیوں سے سخت نفرت ہے۔ لہذا اس سے فیصلہ کرواتے ہیں۔ وہ یہودی کو لے کر حضرت عمر کے پاس آیا اور سارا واقعہ بیان کیا۔ حضرت عمر کو جب پتہ چلا کہ آپ ﷺ نے ان کا فیصلہ کیا ہے اور یہ پھر بھی میرے پاس اس کا فیصلہ کروانے آیا تو اندر سے تلوار لا کر اس کا سر قلم کردیا اور فرمایا کہ جو رسول اللہﷺکے فیصلے پر راضی نہ ہو، عمر کا فیصلہ اس کے حق میں یہ ہے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ” فلا وربک لایومنون حتی یحکموک۔۔۔۔۔ الخ”۔
غزوہِ بدرکے موقع پر جب پہلے قافلے کا سامنا نہ ہو سکا تو آپ علیہ السلام نے رائے مانگی کہ اب کیا کیا جائے؟ تو حضرت عمر نے مقام بدر کی طرف جانے کا کہا تو اللہ کا کلام بھی اس حکم کی تائید میں نازل ہوا کہ ” کما اخرجک ربک من بیتک۔۔۔الخ”۔ اور جب غزوہِ بدر کے قیدیوں کا مسئلہ آیا کہ ان کو مال کے بدلے رہا کیا جائے یا قتل کیا جائے؟ تو حضرت عمر کی رائے یہی تھی کہ ان کو قتل کی جائے تاکہ ان پر ہمارا رعب پڑ جائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسی حکم کی تائید فرمائی کہ ” ماکان لنبی ان یکون لہ اسری۔۔۔۔الخ” ۔
عبد اللہ بن ابی منافق کا جب انتقال ہوا تو اس کے بیٹے نے جنازے کی درخواست کی۔ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رائے دی کہ وہ منافق ہے۔ آپ جنازہ نہ پڑھائیں تو اس پر اللہ تعالیٰ کی تائید نازل ہوئی کہ ”ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ۔۔۔۔الخ”۔
اسی طرح آپﷺ کو ان کے لیے استغفار کرنے سے بھی منع فرمایا کہ ” سواءعلیہم استغفرت لہم ام لم تستغفرلہم”۔ یہ آیت بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وجہ سے نازل ہوئی۔
ایک دفعہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے کلام پاک کے ذریعے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو انسانی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی قدرت بیان کررہے تھے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سن کر کہا ”فتبارک اللہ احسن الخالقین” تو اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن کا حصہ بنا دیا۔
امی جان سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جب کافروں نے تہمت لگائی تو آپ ﷺنے اس پر صحابہ کرام سے رائے طلب کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سن کر کہا ”سبحانک ھذا بہتان عظیم”۔ اللہ تعالیٰ نے اس قول کو قرآن کا حصہ بنادیا۔
ایک غلام حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لیے آیا تو آپ اپنے گھر میں ایسی حالت میں تھے کہ اس کے آنے کو ناپسند فرمایا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ بغیر اجازت گھر میں داخل ہونے کو منع فرما دیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا کہ ”یاایہا الذین امنوا لیستا¿ذنکم الذین۔۔۔۔الخ”۔
پردے کا حکم بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دعا کہ وجہ سے نازل ہوا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اکثر فرماتے تھے کہ کاش پردے کا حکم نازل ہو جائے۔آپ علیہ السلام نے حضرت زینب سے شادی کے موقع پر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو گھر دعوت دی تو اس وقت بھی دعا کی کہ کاش! پردے کا کوئی حکم نازل ہوجائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے آیت مبارکہ کی وجہ سے عورتوں پر پردہ لازم کردیا کہ ” یا ایہا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی۔۔۔۔الخ”۔
اللہ تعالیٰ نے جب یہ آیت نازل کی کہ” ثلة من الاولین، وقلیل من الآخرین”۔ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا پہلی امتوں میں اللہ تعالیٰ کے مقربین لوگ زیادہ ہوں گے اور ہمارے تھوڑے ہوں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایک سال بعد یہ آیت نازل فرمائی کہ ” ثلة من الاولین و ثلة من الآخرین”، تو آپ ﷺنے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت سنائی کہ ایک بڑی جماعت اولین میں سے ہو گی اور ایک بڑی جماعت آخری امت سے ہوگی۔
جب رسول اللہﷺ نے امہات المومنین رضی اللہ عنہن سے علیحدگی اختیار کی اور مسجد میں چلے گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ بات چیت کی۔ جس سے آپ مسکرائے بھی اور پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ ان عورتوں کی وجہ سے مشقت میں کیوں پڑے ہیں۔ آپ کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں، میں اور ابوبکر اور تمام صحابہ کرام ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ”عسی ربہ ان اطلقکن ان یبدلہ۔۔۔۔الخ”۔
اسی طرح جب اذان کا معاملہ ہو تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خواب میں یہ کلمات سکھائے گئے تھے اور ان کے ساتھ ایک صحابی رسول عبد ربی کو بھی یہی خواب آیا۔ پہلے دوسرے صحابی آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی پہنچ گئے۔ یہ واقعہ قرآن مجید میں نہیں لیکن احادیث مبارکہ میں موجود ہے۔
یہ ہیں ہماری آئیڈیل شخصیات کہ جب اسلام میں نازل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا مقام دیا کہ قرآن ان کی زبان بولنے لگا۔ آج کامیابی کا یہی ایک راستہ ہے کہ انہی لوگوں کی پیروی کی جائے جو کامیاب ہو چکے ہیں۔ جن پر قرآن مہر ثبت کر چکا ہے۔

About Ayub Ahmad Khosa

Leave a Reply