Home / Urdu News اردو نیوز / اسلام / مناقب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ

مناقب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ

hazrat usman

we need to change ourselves
عبدالمعید زبیر
جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام نبیوں سے اعلی و افضل ہیں، اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تمام امتوں کے افراد میں سب سے اعلی وا فضل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح سے چن چن کر لوگوں کو آپ علیہ السلام کا ساتھ نصیب فرمایا۔ بڑوں سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاءکے بعد تمام انسانوں میں جن کے دلوں کو صاف پایا، انہیں صحابیت کا درجہ دیا۔ یہ ایسی مقدس جماعت ہے، جن کے اعزاز میں قرآن نے چودہ سو سال پہلے رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ فرما کر ان کی شخصیت پر مہر ثبت کردی۔
ویسے توتمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنی مثال آپ ہیں، جس کی طرف آپ علیہ السلام کا یہ قول اشارہ کرتا ہے کہ الصحابہ کلہم عدول، اصحابی کالنجوم، فبایہم اقتدیتم، اہتدیتم۔ مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی مراتب تھے جو انہی دیگر سے ممتاز کرتے تھے۔ جیسے صحابہ کرام میں اصحاب بدریین کو خاص فضیلت حاصل تھی۔ پھر شہدا بدریین کا اپنا مقام تھا۔ اسی طرح عشرہ مبشرہ کو خاص فضیلت حاصل تھی۔ اسی طرح سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیگر صحابہ کرام میں بڑا اعلی مقام حاصل تھا۔ آپ سخاوت، محاسن اخلاق، حلم و وقار، تقوی و طہارت اور حسن معاشرت میں اعلی مقام پر فائز تھے۔
آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبد الشمس۔ امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ عام الفیل کے چھ سال بعد پید ہوئے۔ آپ چوتھے خوش نصیب انسان تھے جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دعوت پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔
کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنتی ہونے کی بشارت دی۔ سب سے بڑا اعزاز اپ کے لیے یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا آپ کے عقد نکاح میں دیں۔ جب ان کا انتقال ہوا تو دوسری بیٹی ام کلثوم کو عقد نکاح میں دیا۔ نو ہجری میں جب ام کلثوم کا انتقال ہوا تو فرمایا اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں تو وہ بھی یکے بعد دیگرے عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔ تاریخ انسانیت کا یہ منفرد اعزاز تھا جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں آپ دو باتوں میں مشہور تھے۔ ایک سخاوت اور دوسرا حیا۔ مال لٹانے کا کوئی بھی موقع نہیں چھوڑا، جب بھی مال کی ضرورت پڑی، لا کر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں نچھاور کردیا۔ جب پانی کی ضرورت پڑی تو یہودی کو منہ مانگی قیمت ادا کر کے کنواں خرید کر بانیان اسلام کی آبیاری کی۔ مسجد نبوی کو توسیع کی ضرورت پیش آئی تو آگے بڑھ کر پچیس ہزار درہم کے عوض جگہ خرید کر وقف کردی۔ عزوہ تبوک کے موقع پر مسلمان تنگ دستی کا شکار ہوئے تو آپ نے سب سے بڑھ کر تین سو اونٹ مع ساز و سامان اللہ کی راہ میں لٹا دیا۔ ایک ہزار نقد دینا پیش کیے۔ آپ کی سخاوت سے متاثر ہوتے ہوئے سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “آج کے بعد کوئی عمل عثمان کو نقصان نہیں دے گا”۔ ہاتھ اٹھا کر تین دفعہ دعا کی کہ “اے اللہ میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی عثمان سے راضی ہو جا”.
آپ بہت حیا دار تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عثمان سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ دوسری موقع پر ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کو کوئی رفیق ہے۔ جنت میں میرا رفیق عثمان ہوگا۔ بیعت رضوان کے موقع پر اپنے کو عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا۔ نبی آخر الزماں کی طرف سے ایسے ایسے انعامات اور القابات، کیا ہی خوش قسمتی ہے۔
آپ اپنے دور خلافت میں ذو الحجہ کے مہینے میں اس وقت بے دردی سے شہید کیے گئے، جب سبائیوں کی طرف سے آپ کا محاصرہ کیا گیا۔ آپ پر چالیس دن تک کھانے اور پانی کو بند کردیا گیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ سے قتال کی اجازت طلب کی۔ ایسی حالت میں بھی خون بہانے کی اجازت نہیں دی۔ بلکہ فرمایا کہ “میں اپنے نبی کے شہر کو خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا”. اس پر فتن دور کی پیشن گوئی آپ علیہ السلام پہلے ہی فرما چکے تھے۔ حدیث مبارکہ کا میں ذکر کیا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام فتنوں کا ذکر فرما رہے تھے۔ اس دوران ایک شخص قریب سے گزرا جو چادر میں لپٹا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن یہ شخص ہدایت پر ہوگا۔ مرہ بن کعب فرماتے ہیں میں نے جا کر دیکھا تو وہ عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا اے عثمان اللہ تعالیٰ تجھے اقتدار کی قمیص پہنائے گا۔ لوگ اتارنا چاہیں گے مگر تو اتارنا مت۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسی وصیت کے مطابق آخری دم تک خلعت خلافت نہ اتاری۔ بلکہ چالیس دن بھوکا پیاسا رہ کر شہادت قبول کی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “یہ شخص (عثمان رضی اللہ عنہ) فتنوں کے دور میں مظلوما قتل کیا جائے گا”۔ حضرت حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں جو شخص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر رائی کے دانے کے برابر بھی خوش ہوا، وہ قبر میں بھی دجال پر ایمان لے آئے گا۔ آپ کی شہادت کا واقعہ بہت دلخراش واقعہ ہے۔ کہ داڑھی تک نوچی گئی مگر اپنے محبوب سے وفا نبھائی۔
ان شخصیات کو رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کا جو اعزاز ملا ہے، یہ ایسے ہی نہیں ملا۔ بہت قربانیاں دیں، گھر بار تک لٹایا۔ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر دین کی سربلندی کی ہر ممکن کوشش کی۔ سامنے مسلح دشمن اور خود نہتے ہونے کے باوجود کبھی قدم نہیں ڈگمگائے۔ آپ علیہ السلام کے فقط اشارے پر ہی اس حکم کو بجا لاتے۔ یہی لوگ ہماری آئیڈیل شخصیات ہیں۔ یہی ہمارے اصل راہنما ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی نسلوں کو ان سے متعارف کروایا جائے۔ ان کے بہادری، حیا، سخاوت، ایمان داری اور دلیری کے قصے سنائے جائیں۔ انہیں ان کے آبا کا اصل چہرہ دکھایا جائے کہ وہ کتنے امن پسند تھے؟ وہ کتنے انسانیت کا درد رکھنے والے تھے؟ وہ کتنے حقوق کی پیروی کرنے والے تھے؟ یہی اسلام کا اصل چہرہ ہے اور یہی خدا تعالیٰ کو مقصود ہے۔

About Ayub Ahmad Khosa

Leave a Reply

PHP Code Snippets Powered By : XYZScripts.com