Home / Islam / حرمت ِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جان بھی قربان

حرمت ِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جان بھی قربان

hurmat e rasool allah

 Syed Munawar Hussain Jamati

سید منور حسین شاہ جماعتی

سرکار دوعالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و ناموس پر اگر خدانخواستہ ذرہ برابر بھی حرف آ جائے، یہ نہ تو کائنات کو گوارہ ہے اور نہ ہی خود ربِ کائنات کو۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی ناموس رسالت پر تھوڑی سی بھی آنچ آنے لگی یا کوئی بے ادبی یا گستاخی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے خود اسکا بدلہ لے لیا، اسی طرح ساری کائنات گستاخ رسول کےخلاف اُٹھ کھڑی ہوئی۔ انسان تو انسان، کائنات کی ہر چیز جمادات، نباتات اور حیوانات نے بھی ایسے سرکش انسان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ وعدہ فرمایا کہ ”اِنَّ شانِئکَ ھُوَ الاَبتَرُ“ یعنی ”اے حبیب(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بےشک آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دُشمن ہی بے
نسل و بے نام و نشان ہو گا“۔

یہ آیت کریمہ بڑی وضاحت کےساتھ بتا رہی ہے کہ دُنیا میں جب کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرمت کےخلاف کوئی بات ہو گی تو اللہ تعالیٰ اپنے قوانین فطرت کے مطابق خود ہی ناموس رسالت کو تحفظ فراہم کرےگا اور گستاخ کو نیست و نابود کرے گا، ہمارا ایمان ہے کہ آج تک یہی ہوتا چلا آیا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہےگا۔ عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے جھنڈے چہارسو لہراتے رہیں گے اور چشم فلک رفعت ِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مناظر دیکھتی رہے گی مگر یاد رہے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تحفظ جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے وہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو بھی اس اَمر کا پابند کر دیا ہے کہ اسکے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گستاخ کو منطقی انجام تک ضرور پہنچاﺅ۔ یہاں میں ایک واقعہ آپ کی نظر کرنا چاہتا ہوں‘ جسکے راوی حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری ہیں۔ یہ واقعہ بے حد ایمان افروز اور عبرت انگیز ہے، اس کو حضرت امیر ملت نے امام الائمہ سراج الامہ حضرت سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ کے سالانہ عرس پاک منعقدہ جامع مسجد جان محمدامرتسر کے موقع پر عظیم الشان اجتماع میں بیان فرمایا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ ہندوستان کے شہر امرتسر کے گرجاگھر کے سامنے ایک عیسائی پادری لوگوں سے خطاب کر رہا تھا، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فضائل اور عیسائی مذہب کی خوبیاں بیان کر رہا تھا۔ دورانِ تقریر وہ پادری حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم گرامی ادب و احترام سے نہیں لے رہا تھا۔ سامعین میں سے ایک بھنگڑ اس حالت میں کھڑا تھا کہ اسکا بھنگ گھوٹنے والا ڈنڈا اسکے کندھے پر تھا، اس خوش بخت بھنگڑ نے پادری کو ٹوکا اور کہا کہ پادری ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو برحق نبی مانتے ہیں اور ان کا نام بھی ادب و احترام کےساتھ لیتے ہیں، اسلئے تو بھی ہماری سچی سرکار یعنی ہمارے پیارے نبی جناب حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ادب سے لے، مگر پادری پر اسکی بات کا کچھ اثر نہ ہوا، وہ حسب سابق اسی طرح ہمارے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام بے ادبی سے لیتا رہا۔ بھنگڑ نے ایک بار پھر ٹوکا، جب وہ باز نہ آیا تو اس بھنگڑ نے وہ بھنگ گھوٹنے والا ڈنڈا اس زور سے پادری کے سر پر دے مارا کہ اسکا سر پھٹ گیا جس سے اسکا بھیجا باہر نکل آیا، یوں وہ پادری واصل جہنم ہو گیا۔ یہ عاشق صادق پکڑا گیا، انگریز کا دور تھا، مقدمہ چلا تو موت کی سزا ہوئی، اپیل ہوئی تو انگریز جج نے یہ لکھ کر بری کر دیا کہ ”پادری کا قاتل ایک تکیہ نشین بھنگڑ ہے‘ کوئی مولوی یا خطیب نہیں‘ کیونکہ مولوی اور پادری کی تو کوئی باہمی رنجش ہو سکتی ہے، بھنگڑ کی پادری سے کوئی دیرینہ دشمنی یا رنجش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ظاہر ہے کہ پادری نے ضرور اسکے جذبات کو مجروح کیا ہے لہٰذا اسکے ردعمل میں اس نے یہ عمل کیا اسلئے میں اس کو بری کرتا ہوں“۔ اللہ تعالیٰ اس عاشق کی مرقد منور پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور اس جیسا ایمان ہر مکین مسجد اور ہر مسلمان کو نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، بجاہ سید المرسلین۔ (واضح رہے کہ آج ہمیں خود قانون کو ہاتھ میں لینے کی بجائے قانون کا سہارا لیکر ایسے گستاخوں کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہئے)۔

اس واقعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضورپرنور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اَقدس میں وہ پادری کوئی گستاخی کا کلمہ نہیں کہہ رہا تھا، صرف حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم گرامی اسلامی ادب سے نہیں لے رہا تھا جس سے بھنگ گھوٹنے اور پینے والے عاشق کو پادری کا صرف ”محمدصاحب“ کہنا بھی ناگوار
گزرا‘ وہ اس گستاخی کو برداشت نہ کر سکا اور اس نے اپنے مذہب عشق کا جھنڈا بلند کر دیا۔

کچھ عرصہ سے دشمنانِ اسلام کی طرف سے ہمارے پیارے پیغمبر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اقدس میں مسلسل گستاخیوں کا سلسلہ شروع ہے جس سے ہر مسلمان اور بالخصوص عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دِل دُکھتے ہیں۔ مسلمان اس پریشانی میں مبتلا ہیں کہ آخر ان گستاخیوں کا سلسلہ کیسے بند ہو گا؟ کافی سوچ و بچار کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ پوری دُنیا میں دِن بدن دین اسلام کی بڑھتی ہوئی عظمت و رفعت کی وجہ سے عالم کفر بہت پریشان ہے‘ وہ اپنی اسی خفت کو مٹانے اور دین اسلام کو نقصان پہنچانے کےلئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں کر رہا ہے، لیکن ان کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں وہ عظمت رکھ دی ہے کہ اس کو جتنا دبایا جائےگا یہ اتنا ہی اُبھرے گا، اسی وجہ سے دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ اسلام کو نقصان پہنچانے کےلئے جتنا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کی جاتی ہیں اتنا ہی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و شان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دُنیائے اسلام کےلئے اس وقت کا سب سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ جب ہمارا دین مکمل، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برحق اور ہمارا قرآن سچی کتاب ہے تو ملت اسلامیہ کے زوال کا سبب کیا ہے؟ اسکی وجہ کیا ہے؟ یہ سوال جس قدر اہم اور توجہ کا مستحق ہے افسوس کہ ہماری مردہ دِلی اور بے حسی کی وجہ سے اسکی ایک ہزارویں حصے پر بھی غوروخوض نہیں کیا جا رہا۔ ایک طرف دیکھا جائے تو ناچ گانوں کی محفلوں پر لاکھوں خرچ کر دئیے جاتے ہیں، محافل و جلسوں میں موتی اور پھول برسائے جاتے ہیں، لوگوں کو رُلایا اور ہنسایا جاتا ہے، علمی اجتماعات میں مناظرے اور مباحثے کئے جاتے ہیں، مقالات پڑھے جاتے ہیں، مشاعروں میں دادوستائش کے نعروں سے آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے، عقیدت کے نام پر لاکھوں روپے ایک ہی محفل میں خرچ کر دئیے جاتے ہیں مگر آج تک کسی محفل، کسی مجلس، کسی مشاعرے، کسی وعظ و تقریر یا محفل میں آپ نے اس موضوع پر بھی کچھ سنا ہے کہ ہمارے زوال کے اسباب اور ہماری کمزوریوں کی وجوہات کیا ہیں؟ کن تدابیر سے ہم اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں؟ یہاں میں اختصار کےساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پورا عالم کفر دین اسلام کےخلاف متحد ہو چکا ہے اور انہوں نے ہمیں منتشر کر رکھا ہے۔ مسلمانوں کے زوال کی وجوہات معلوم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ قرونِ اوّل میں ان کی ترقی کے اسباب دریافت کئے جائیں اور دیکھا جائے کہ وہ کون سے اُصول تھے جن پر عمل پیرا ہو کر اُس زمانے کے مسلمانوں نے ترقی کی تھی، مزید یہ کہ اس زمانے میں ہم ان اصولوں پر عملدرآمد کر سکتے ہیں یا نہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ عالمی صورتحال میں یورپ جس انتہائی حساس طرز کی نظریاتی اور تہذیبی جنگ کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلط کر رہا ہے وہ ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ساری دُنیا جانتی ہے کہ محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و ناموس مسلمانوں کےلئے ایک بہت ہی حساس اور نازک ترین معاملہ ہے، یہی وجہ ہے کہ کسی بھی گستاخی کی صورت میں ایک ارب 70کروڑ سے زائد مسلمانوں کی دِل آزاری ہوتی ہے‘ اسکے باوجود عالم کفر کی طرف سے ایسی مذموم کارروائیوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہتا ہے‘ ایسی گستاخیوں کے حوالے سے بطور مسلمان ہمیں متحد ہو کر تمام ممالک و شخصیات کو سخت پیغام دینا ہو گا کہ ہم کسی بھی صورت ایسی گستاخانہ حرکت کبھی برداشت نہیں کرینگے اور نہ ہی ہم سے ایسی توقع رکھی جائے۔

About Ayub Ahmad Khosa

SJPasia

Leave a Reply