Home / Blogs / بدلیں گے تو بدلے گا پاکستان– تحریر: محمد حنظلہ شاہد

بدلیں گے تو بدلے گا پاکستان– تحریر: محمد حنظلہ شاہد

Hanzala Malik
تحریر: محمد حنظلہ شاہد
@Hanzalamalik92

آئیں 1947ءاور اس سے پہلے کا وہ وقت یاد کرلیتے ہیں جب ہمارے آباو و اجداد اس ہر دل عزیز وطن پاکستان کی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے، اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر۔۔ ہماری خاطر۔ کیا دل کو چیڑ کے رکھ دینے والے وہ مناظر تھے جب گھر گھر گھس کے پاکستان کے حق میں بولنے والے نوجوانوں کا قتل عام کر دیا جاتا تھا، جب بہنیں گھر پہ حملہ ہوتے دیکھ کہ چھتوں سے چھلانگیں لگا دیتی تھیں تاکہ ان کی عزت بچ سکے، جب کسی لڑکی کو یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ اس کا سہاگ کب اجڑ, جب ماوں کی آنکھیں بیٹوں کی واپسی کی راہ تکتے بند ہوجاتی اور جب ہر آئے دن باپ کو اپنے جوان بیٹے کے جنازے کو کندھا دینا پڑتا اور پھر یوں کئی قربانیاں دیتے وہ آواز ان کے کانوں میں پڑ گئی جس کا انہیں برسوں سے انتظار تھا کہ پاکستان مادر وجود میں آنے لگا ہے اب وہ آزادی سے کھل کے سانس لے سکیں گے مگر انہیں پتہ تھا کہ قربانیوں کا سلسلہ یہاں تک تھا نہیں ہے ابھی انہیں ہندوستان سے پاکستان تک جانا ہے۔ پھر وہی ہوا پاکستان کی طرف جاتی ہر گلی میں کئی لاشوں کے ڈھیر نظر آتے تھے، بچوں کے بلکنے آوازیں اور ظلم کی انتہا جب پوری کی پوری مسافروں سے بھری ٹرینیں جو پاکستان کا رخ کررہی جلا دی جاتی تھیں۔ اس سے زیادہ ظلم و بربریت کی کیا داستان ہوگی۔ سوچتے ہوئے بھی روح کانپ جاتی ہےان لوگوں نے سہا کیسے ہو گا یہ سب۔ اوراب ہم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟
یہ ملک ہم نے اتنی آسانی سے حاصل نہیں کیابہت کچھ گنوا کہ ہمیں یہ دھرتی کا خوبصورت سا ٹکڑا ملا ہےاور ہم جنہیں یہ آزادی بیٹھے بٹھائے مل گئی کتنے آرام سے اس ملک پہ تنقید کرتے رہتے۔ہمارا مسئلہ یہ کہ ہم ہمیشہ دوسروں پہ نظر رکھتے ہیں کہ اس نے کیا کیا پاکستان کے لیے مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہمارا اپنا کیا کردار رہا ۔کیا ہم نے اس ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے کچھ کیا؟ نہیں! کیوں کہ ہم ہی اپنے اپنے لیول پہ اس میں ملوث ہیں، جس کی پہنچ جہاں تک ہے وہ اتنی کرپشن پوری محنت سے کررہا ہے۔کیا کبھی کوشش کی کہ رشوت کو ختم کر کے؟ نہیں نا! کیوں کہ چاہے وہ سرٹیفیکیٹ ہو ، ڈرائیونگ لائسنس ہو یا پھر پاسپوڑٹ بنوانا ہو جہاں بھی ہوتا اپنی آسانی کے لیےہم بھی رشوت لگا دیتے ہیں۔پھر ٹریفک کے قوانین کی دھجیاں اڑانا تو جیسے ہم نے اپنا فرض ہی سمجھ رکھا ، کسی میں صبر نام کی چیز ہی نہیں اسی لیے آئے دن روڈ ایکسیدینٹ کا سننے میں آتا ہے۔اب ذرا سوچیں کہ ملک کی صفائی کی ہمارا کیا کردار ہے۔ہم حکومت اور صفائی سے جڑے محکمے کو تنقید کا نشانہ تو بہت جلدی بنا تے مگر کبھی بطور شہری کبھی آپ نے کوشش کی چلیں صفائی نہ سہی کم از کم گندگی پھیلانے کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرتے ۔ پھر بجلی کی طرف آ جاتے ہیں ہر وقت حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں اضافےاور بجلی کے بحران پر لعن طعن کا نشانہ بنایا جا رہا ہوتا مگر ہم ہی ہیں وہ جواس کنڈا سسٹم کو بھی فروغ دے رہے ہوتے اور اپنی اس حرکت پہ کبھی شرمندہ بھی نہیں ہوتے۔کوئی حادثہ پیش آ جائے رستے میں تو ڈھیروں افراد جمع ہو کر ویڈیوز بنانے تو لگ جاتے ہیں مگر انسانیت کی پستی دیکھیں اٹھا کہ ہسپتال لے جانے والا کوئی نہیں ہوتا اس کے لیے ایمبولنس کا انتظار کیا جاتا ہے چاہے تب تک اس کی جان ہی چلی جائے اور پھر تھانے تک میں جانے سے کتراتے پھرتے ہیں ایف آئی آر کے لیے۔
یقینایہ حکومتوں کی ذمہ داریاں ہوتی لیکن سارا کا سارا بوجھ اور الزام صرف حکومت وقت پہ ڈال کہ ہم اپنے حصوں کی ذمہ داریوں سے ہز گز غافل نہیں ہوا جا سکتا۔سیاسی بحث ہو اور کوئی پاکستانی اس چپ دیکھائی دے ایسا شاید ہی کبھی دیکھنے میں آیا ہو۔ مگر افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم ستر سے زائد سالوں میں اتنی قربانیوں کے بعد حاصل کیے ہو پاکستان کے لیے کچھ نہ کر سکے بلکہ ہمیشہ اپنی کوتاہیوں کا الزام بھی دوسروں کے سر دیتے رہے۔ مگر ایسا آخر کب تک چلے گا! کب تک ہم اس نظام کو الزام دیتے رہیں گے!اب وقت ہے ایک مثبت تبدیلی لانے کا ! اس کے لیے بدلیں گے ہم تو بدلے گا پاکستان
. محمد حنظلہ شاہد
@Hanzalamalik92

 

ادارے کا زیر نظر مضمون نگار کی رائے سے متفیق ہونا ضروری نہیں

About Ayub Ahmad Khosa

Leave a Reply