Home / Blogs / ربیع الاول اور عشق نبیﷺ کی پیروی

ربیع الاول اور عشق نبیﷺ کی پیروی

Ishq e Nabi

Zubair Ahmed
@KharnalZ
ربیع الاول اور عشق نبیﷺ کی پیروی
اسلام دنیا کا وہ مذہب ہے جس پر اللہ تعالٰی نے اپنا سب سے بڑا فضل کیا کہ اسے وہ ہستی عطا کی جس کا کوئی متبادل اور ثانی نہ دنیا میں نہ دین میں، مبلغ تو کوئی مقابل نہیں، ایسے کمانڈر تھے کہ تدابیر آج بھی مشعل راہ ہیں، ایسا معلم کہ جس وادی عرب میں علم تھا نہ حکمت اس کے لوگوں کو پوری دنیا کا معلم بنا دیا،  بطور باپ محبت کا دریا شوہر تو وفا کی تصویر۔ یہ صرف باتیں نہیں بلکہ ان میں سے ہر لفظ کا ثبوت مکمل طور پر موجود ہے۔ پیغمبراسلامﷺ کا اسوہ حسنہ دنیا کے ہر فرد کے لیے ایک ایسا راستہ ہے جس میں ناکامی اور برائی کا رتی بھر شک تک نہیں اور یہی وہ کردار تھا جس نے ایک لادین جہالت زدہ معاشرے کو بدل کر رکھ دیا وہ معاشرہ جو گمراہی کی اس حد پر تھا جہاں باپ خود اپنے ہاتھ سے اپنی بیٹی کو زندہ درگور کرتا تھا اور بیٹی کی التجا اور باپ سے محبت کا اظہار بھی اسے زمین کا رزق بننے سے نہ بچاتی تھی۔ جہاں بات بات پر سالوں پہ محیط جنگیں لڑی جاتی تھیں اور یہ حال صرف مکہ کا نہیں بلکہ ساری دنیا کا تھا۔ مدینہ میں اوس و خزرج آپس میں سالہا سال سے دست وگریباں رہتے تھے دیگر قومیں آپس میں الجھی ہوئی تھیں ایسے میں امن اور سلامتی کی بات کرنا ایک ایسا مشکل کام تھا جس کو سر انجام دینے کے لیے وہ اخلاق و کردار اور ثابت قدمی اور محبت درکار تھی جس پر انگلی اٹھانے تک کی گنجائش نہ ہو۔ مکہ میں رحمت اللعالمینﷺنے جو مشکلات برداشت کیں ،جو تکالیف اٹھائیں وہ کسی بھی طرح سے ایک عام انسان کی قوت برداشت سے باہر تھیں۔ صرف شعب ابی طالب گھاٹی میں تین سال تک ایسا قطع تعلق اور معاشرتی بائیکاٹ کیا گیا مگر فخر انسانیتﷺ اور ان کے ماننے والوں کے عزم و استقلال میں ذرا بھی لغزش نہ آئی۔ تیرہ سال تبلیغ کے بعد مکہ میں کچھ ہی لوگ مسلمان ہوئے اور مکہ کے سرداروں میں اکثریت کا رویہ انتہائی سخت تھا اور جانی دشمن بن گئے۔

پھر مدینہ تشریف لے گئے آپﷺ کی آمد سے پہلے اوس و خزرج کے قبائل ایک دوسرے کے شدید دشمن تھے، اور اسی دشمنی کے باعث ایک دوسرے کے بارے میں نیک خیالات نہ رکھتے تھے لیکن بعد میں یہی اوس اور خزرج صرف اورصرف انصار بن گئے۔ یہودی مدینہ کی آبادی کا ایک اہم جزو تھے آپ ﷺ نے ان کے ساتھ میثاق مدینہ فرمایا تاکہ مدینہ میں امن و امان قائم ہو۔ کسی کافریا مشرک کو اس کے دین کی وجہ سے نہ مارا نہ قتل کیا۔ مکہ جس شہر کی فضا ان مظالم کی گواہ تھی جو نبی آخر الزماںﷺ اور مسلمانوں پر کئے گئے تھے اس نے وہ منظر بھی دیکھا جب بطور فاتح آپ ﷺ اسی شہر میں داخل ہوئے تو وہاں کے لوگوں کے تمام جرائم معاف کئے، تمام مظالم بھلا دیئے،شعب ابی طالب میں گزارے تین سال بھی، وہ پتھر بھی جو آپ ﷺ کو مارے گئے اور وہ کانٹے بھی جو آپﷺکی راہ میں بچھائے گئے ،یاد رہا توصرف عفو و درگزر اور رحمت و محبت اور نہ صرف مکہ بلکہ جہاں جس نے ہتھیار رکھ دیئے اور رحم مانگا یہ سر چشمہ رحمت، رحمت و محبت ہی رہا۔ آج جب ہم ربیع الاول کے مہینے میں اس عظیم ہستی کی ولادت کا جشن منا رہے ہیں تو ان تقاضوں کی شناخت اور پہچان بھی ضروری ہے جو ہمارا مذہب ہم سے کرتا ہے۔ آج مسلمان ہی مسلمان کو مار رہا ہے کبھی سیاست کے نام پر، کبھی فرقے کے نام پر، کبھی قومیت کے نام پر اور کبھی نسلی تعصب کے نام پر تو ہم کیسی مسلمانی کا دعوی کرتے ہیں۔ اس دین کے پیروکار ہوکر جو اقوام کے تفرقے  مٹانے آیا تھا لیکن افسوس کہ ہم نے اس دین میں تفرقے ڈال دیئے ہیں۔  بین الاقوامی معاملات میں تو ہم غیروں کو قصوروار ٹھہرا سکتے ہیں لیکن خود مسلمانوں کے اندر سے رواداری کہاں گئی وہ دین جو زندگی کے تمام معاملات میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اس نبیﷺ کا پیروکار ہونے کے باوجود جو رحمت اللعالمین بنا کر بھیجے گئے جنہوں نے دشمن کو بھی معاف کیا جن کے حسن اخلاق نے جانی دشمنوں کو دوست بنایا اس نبیﷺ کے امتی ہونے کے باوجودہم کس راہ پر چل رہے ہیں۔ اپنے ہی مسلمان بھائی کا خون اسلام اور دین کے نام پر بہا رہے ہیں۔ تو پھر ہم کس عشق نبیﷺکا دعویٰ کرتے ہیں۔عشق کے تقاضے بہت مختلف ہوتے ہیں محبوب کا ایک ایک عمل، ایک قدم مشعل راہ ہوتا ہے اور اس پر قدم رکھنے پہ فخر محسوس کیا جاتا ہے ۔ اس ربیع الاول کے مبارک مہینے جس میں رحمت اللعالمینﷺ کی ولادت باسعادت  ہوئی تھی میں ہم اپنی راہوں کا تعین کرلیں اور بحیثیت مسلمان یہ طے کرلیں کہ وہ نبیﷺ جو غیروں کے لیے،کافروں کے لیے، مشرکوں کے لیے بھی رحمت تھا اس کے عشق کا دعوی ہم تب کریں گے جب ہم خود آپس میں محبت اور ایک دوسرے کے لئے رحمت بن جائیں گے۔ وہ نبیﷺ جس نے غیر مسلم کے قاتل کو بھی جنت کی خوشبو سے محرومی کی وعید سنائی،جس نے جنگ میں بھی عورت بوڑھے اور بچے پر ہاتھ اٹھانے سے منع کیا، جس نے جانوروں تک پر رحم کا حکم دیا اور جس نے غلاموں کے حقوق کو مالکوں کے فرائض سے بڑھ کر اہمیت دی اُس نبیﷺکے امتی ہونے کا اعزاز اگر خدا نے ہمیں دیا ہے تو پھر قتل و غارت، نااتفاقی اور تفرقے کس لئے۔ اگر ہم خود کو بہت اچھا مسلمان کہتے ہیں اور اسی لیے دوسرے کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں تو یاد رکھیں سزا و جزا کا اختیار صرف اس کے پاس جو رب العالمین ہے اور جب تک کوئی خدا کی حدود کو نہیں توڑتا اور اس کی زمین پر کھلم کھلا فساد برپا نہیں کرتا تو کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ کسی کو قتل کرے کہ انسانی جان کو اللہ تعالٰی نے انتہائی مقدس قرار دیا ہے۔ لہٰذا بحیثیت مسلمان دعویٰ عشق نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد میں اور دعویٰ پیروی نبویﷺ پہلے ہو اور ایسی پیروی کہ جس میں کوئی حیلہ اور کوئی حجت نہ ہو تو پھر فخر سے خود کو غلام مصطفٰیﷺ  کہلایئے  اور جسے یہ اعزاز نصیب ہو جائے تو گویا دو جہان اسکے قدموں میں ہیں۔

About Admin

Leave a Reply