Home / Islam / واقعہ کربلا کے اثرات

واقعہ کربلا کے اثرات

Battle of Karbala

محمد اسلم
اس شہید بلا شاہ گلگوں قبا
بیکس دشت غربت پہ لاکھوں سلام
در درج نجف مہر برج شرف
رنگ رومی شہادت پہ لاکھوں سلام
نواسہ رسول مصطفی جگر گوشہ بتول فاطمہ الزھراءلخت جگر شیرخدا حیدر کرار علی المرتضی برادر خورد مصالح بین المسلمین حسن المجتبیٰ حضرت امام ابو عبداللہ حسین علیہ السلام کی شہادت تاریخ اسلام کے وقائع عظیم اور واقعات مخزمہ عالم میں سانحہ عظمی کے طور پر جانی اور منائی جاتی ہے۔شہادت حسین کا واقعہ جو کہ اندوہ ناک بھی ہے اور حیات آفرین کوئی شخص نہیں بلکہ اس کا تعلق اسلام کی تاریخ سے ایک قدم اسلام کی اصل حقیقت سے ہے یعنی وہ حقیقت جس کا ظہور حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہ السلام کی اپنی قربانی سے ہوا تھا اور وہ بتدریج ارتقائی منازل طے کرتا ہوا حضرت عیسی علیہ السلام کی ذات میں پنہاں ہوگیا اور اس کو حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی سرفروشی سے مکمل کردیا۔
سیدالشہداءامام عالی مقام سے رئیس کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو جس قدر پیار تھا کہ راکب شہہ دو جہاں ٹھہرے جس طرح اس نازنین شہزادہ خانوادہ نبوت کی پرورش ہوئی جس قدر ان کوصحابہ کرام میں قدرومنزلت حاصل تھی جس قدر آپ کے فضائل تھے جس قسم کے کردار کے مالک تھے جس طرح کے عہدو پیمان دلا کر ان کو حجاز مقدس سے کوفہ آنے پر مجبور کیاگیا جس طور پر آپ کے عم زاد کو کوفہ میں شہید کیاگیا جس لالچ اوربزدلی میں آکر کوفیوں نے آپ سے بدعہدی کی ¾جس مقصد کے لئے آپ کو کارزار کربلا میں محصور کیاگیا جس قدر آپ کو بھوک پیاس کے مصائب میں مبتلا کیا جس ناعاقبت اندیشی جنگ آزمائی کی گئی جس بے سرو سامانی میں آپ کو میدان جنگ میں اترنے پر مجبور کیاگیا جس بے بسی کی حالت میں آپ اپنے ساتھیوں بھائیوں فرزندوں بھانجوں بھتیجوں کے خون سے لتھڑے لاشے سنبھالتے تھے جس حسرت سے معصوم بیٹے کے حلق سے تیر نکالا جس بے خوفی بے ادبی اور سنگدلی سے آپ کو شہید کیاگیا خیموں کو آگ لگائی گئی شہداءکی لاشوں کو روندا گیا جس حالت میں مخزرات جرات و حوصلہ صبر و تحمل توکل علی اللہ حق گوئی بیاکی اور حریت وآزادی کے ساتھ دین مصطفی کی عظمت و بقا کی خاطر ان جانکاہ و المناک مصائب اور باطل کی یلغار کا مقابلہ کیاکہ بالآخر خدا کی مقدس اس کو پہنچ گئی اس سے اس وقت کے حالات کا متاثر ہونا تو لاہدی امر تھا لیکن آنے والے وقتوں پر اس سانحہ خونچکاں نے جو سیاسی سماجی معاشرتی فنی و تمدنی اور علمی ادبی اثرات ثبت کئے وہ واقعہ کربلا کی لازوال صداقت عظمت پر دال ہیں۔
سیاسی اثرات:
سانحہ کربلا حقیقت میں اسلامی طرز انتخاب و سیاحت پر ایک نہایت کاری وار ثابت ہوا۔
اس سے اسلامی آئین حکومت کے جسد اطہر پر ایسے گہرے زخم لگے جو صدیاں گزر جانے پر آج بھی پوری طرح مندمل نہیں ہوسکا۔
آنحضرت ﷺسے خلفاءراشدین حضرت امیر معاویہ ؓ کے دورمیں امارت تک مسلمان سیاسی لحاظ سے ایک قوت تھے اگرچہ شہادت عثمانؓ نے بھی سیاسی حالات پر گہرا اثر ڈالا مگر شہادت حسینؓ سے امت مسلمہ سیاسی انتشار وافتراق میں ایسی پھنسی کہ دوبارہ اس سے نجات نہ پاسکی۔
سانحہ کربلا سے بہت سی سیاسی تحریکوں نے جنم دیا اہل حجاز نے تاج وتخت سے بغاوت کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن زبیر کے ہاتھ بیعت کر کے الگ خلافت کااعلان کردیا دوسری طرف امام حسین علیہ السلام سے بدعہدی کرنے والے کوفیوں کا ایک گروہ شہادت حسین کاانتقام لینے کی خاطر سلیمان بن صرو کی سرکردگی میں توابین کے نام سے اٹھا مختار بن ابوعبیدہ ثقفی کو سیاسی لحاظ سے مضبوط کیا اورقاتلین کو چن چن کر قتل کیا مثلا عبیداللہ بن زیاد عمرو بن سعد شہزادی الجوش حرمل بن یزید سنان بن انس غنعی بغیرہ اور یہ اموی افواج کے بہادر اور اعلی سپہ سالار تھے۔
مسلمان سیاسی لحاظ سے کئی گروہوں میں بٹ جانے سے اور ان کی آپس میں سیاسی اور مصلح کشمکش اور برسرپیکاری سے ہزاروں جانوں کا ضیاع ہوا سیاسی اجتماعیت کاشیرازہ بکھر گیا جس سے فتوحات کا سلسلہ پورے تیس سال تک رکا رہا۔
اس سانحہ کربلا کے نتیجے بعد کی خانہ جنگی اور مسلح کشمکش سے عرب بہت سے عالی دماغ مدبر سیاستدانوں فوجی سپہ سالاروں اور متبرک ہستیوں سے محروم ہوگیا مثلا ابن زیاد عبداللہ بن زبیر مصب بن زبیر مختار ثقفی اور مدینہ ومکہ کے بہت سے صحابہ۔
بنوامیہ کی سلطنت کو ولید،سلیمان سام و مردان الحمار نے اپنی وسیع القلبی سے کچھ سنبھالا تو دیا لیکن اندر ہی اندر حالات بنو امیہ کے خلاف جارہے تھے ایران میں عباسی تحریک نے جنم لیا جس نے امام حسین کی قربانیوں کے برابر یعنی 72سال کے بعد اموی دور کا خاتمہ کردیا لیکن500سالہ عباسی سلطنت بھی بالآخر اسی سیاسی(شیعہ سنی)انتشار کا شکار ہوگئی۔
اسی واقعہ کا اثرتھا کہ اہل سادات کے ساتھ عوام کی ہمدردیاں پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئیں تھیں جس سے شیعوں کو سیاسی عروج بھی حاصل ہوا مصرمیں فاطمی خلافت کا قیام عمل میںا ٓیا اور بعد میں افریقہ کے کچھ اور ممالک میں علوی خلافت بھی قائم ہوئی۔
عثمانی ترکوں کی فتوحات بھی شیعہ سنی افتراق کا شکار ہوگئیں ۔خود یورپی مصنفین اور مورخین کا کہنا ہے کہ اگر چلڈرن کی جنگ جو ترکوں اور ایرانیوں (سنیوں اور شیعوں) کے درمیان 23اگست 1512ءکو ہوئی نہ ہوتی تو یورپ میں ترکوں کی فوجوں کی پیش قدمی کا رکنا محالات میں سے تھا عین ممکن تھا کہ یورپ پورا اسلام قبول کرلیتا جس سے دنیا کی تاریخ بالکل بدل جاتی۔
برصغیر میں مسلم ہندوستان میں مسلمانوں کی عظیم سلطنت اور سیاسی برتری کا خاتمہ بھی اسی شیعہ سنی تشتت و افتراق کاافسوسناک پہلو تھا سلطنت میسور کے پیچھے بھی یہی افتراق تھا شمالی ہندوستان کی مسلمان حکومتوں کا زوال بھی اسی کا نتیجہ ہے اور آج پاکستانی جو ابھی تک حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست نہیں بن سکا اس کے پس منظر میں بھی یہی سبب کار فرما ہے۔
ہرسال محرم کا مہینہ جب تک آتا رہے گا یزید کی ابدی ہلاکت اور حسین کی تاقیامت زیست کی یاد تازہ ہوتی رہے گی اور مسلمانان عالم ذکر حسین سے اپنی محفلوں کو ہمیشہ بقعہ نور بناتے رہیں گے امت مسلمہ کو نیا ولولہ اور نیا خون بارگاہ سے ملتا رہے گا اسلامی دنیا کی ماضی قریب کی تاریخ میں افریقہ اور مشرق وسطی میں حیرت و آزادی کے نئے نئے سویرے پھوٹے ان میں معرکہ کربلا کی سرخی شامل ہے۔
عالم اسلام میں جہاں بھی کوئی حکومت آمریت اور بادشاہت میں بدلی اور عوام کے ضمیرکی آواز کو دبایاگیا اسلامی قوانین و حدود سے روگردانی اور عمدا انحراف کیاگیا اور عوام کے حقو ق غصب کئے گئے وہاں اسلامی اقدار کے تحفظ اور احیاءاور عوامی تحفظ کی خاطر کوئی تحریک جنم لیتی ہے تو اس میں حسینی نعرہ مرکزی کردارادا کرتا ہے اس کے علمبردار سوانحہ کربلا کو اپنی منزل قرار دیتے ہیں اور امام حسین علیہ السلام کے اس پیغام کو آنکھوں پر سجایا جاتا ہے کہ اگرچہ دنیا بھی نفیس شمار ہوتی ہے مگر اللہ سے ثواب کا گھر اعلی اور شاندار ہے اگرچہ انسان کوموت کے لئے پیدا کیاگیا ہے مگر اللہ کی راہ میں آدمی کاتلوار سے قتل ہوناافضل اوربہتر ہے۔
یہ آج جو اک گونج ہے آزادی کی
یہ بھی ہے حسین ابن علی ؑ کی آواز
سماجی و معاشرتی اثرات
عاشورہ محرم کو اسلام سے پہلے بھی تقدس حاصل تھا دور رسالت میں محرم کے اس تقدس کو برقرار رکھاگیا لیکن معرکہ کربلا نے محرم کو وہ لازوال مقام بخشا ہے کہ اب محرم کا موجود تقدس قدرو منزلت معرکہ کربلا کا فیض ہے محرم میں ہمارے یہاں کے مسلمان قبرستانوں میں اپنے اپنے آباﺅ اجداد رشتہ داروں کی زیارت کرتے ہیں اور ان کی کچے قبروں کی بگڑی حالت بہتر بناتے ہیں شہادت حسین کے باعث اہل حجاز کی سلطنت امیہ سے علیحدگی کے باعث یزید نے حرمین شریفین پر لشکر کشی کر کے معاشرہ کو اور بھی سوگوار کردیا ہزاروں مسلمان شہید ہوئے مدینہ میں وسیع پیمانے پر لوٹ مار کی گئی اور شہریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے اوریہ گھناﺅنی داستان اسلامی مملکت میں پہلی بارسننے میں آئی۔
معرکہ کربلا میں شہادت حسین کی خبر اسلامی قلم رو میں بجلی بن کر گونجی ہر طرف غم و الم کی لہر دوڑ گئی اس کا اثر ہر مسلمان پر ہوا خواہ یزید ہو خواہ ایک سچا عام مسلمان اہل حجاز ہوں یا اہل شام یا اہل عراق ہو آج بھی اس کا غم اور دکھ اتنا تا زہ ہے جتنا اس وقت تھا سعودی نے روایت بیان کی ہے کہ اس واقع کے غم اور افسوس میں حضرت عبداللہ بن عباس روتے اپنی بینائی سے محروم ہوگئے تھے۔
شہادت حسین کے بعد محبت حسین محبت اہل بیت اور باطل کے خلاف جذبہ جہاد دلوں میں پیدا کرنے کے لئے اور واقعات کربلا کے بیان سے رنج و غم کااظہار پرسال کیاجانے لگا اس رنج کے ا ظہار کا آغاز تو اس وقت مسلم ہندوستان میں اسی اظہار کے باعث شاعری کی ایک صنف مرثیہ نے جنم لیا اس کے ساتھ ذوالجناح تعزیہ علم کے جلوس نکالے جانے لگے۔علاوہ ازیں ماتم سینہ کوبی کی محفلیں مجالس عزا مرثیہ خوانی شام غریباں منعقد کی جاتی ہیں یہ رسوم شیعہ حضرات باقاعدگی سے مناتے ہیں اور معاشرہ کا حصہ بن چکی ہیں دوسری طرف سنی مسلمانوں میںشہادت کانفرنس جلسے مذاکرے اہتمام کے ساتھ منعقد کئے جاتے ہیں اس اہل تشیع میں فن مرثیہ گوئی اہل سنت میں فن تقریر نے بام عروج حاصل کیا ہوا ہے اسی واقعہ کا اثر ہندوستان میں معاشرہ پر ہوا۔ہندو ایسی مجالیس میں شریک ہوتے ہیں نذرو نیاز تقسیم کرتے ہیں یہ رسوم اور مجالس اہل تشیع کے اکثریتی شیعہ آبادی میں بڑی دھوم دھام سے منائی جاتی ہیں اہل تشیع کے ہاں محرم میں مرثیہ خوانی کو وہ مقام حاصل ہوچکا ہے جو ماہ رمضان میں تلاوت قرآن کو حاصل ہے۔اگرچہ دین اسلام میں اس غلو پسندی اور بدعات کی گنجائش نہیں۔

About Ayub Ahmad Khosa

SJPasia

Leave a Reply