Home / Blogs / ‏قومی کھیل کا شاندار ماضی—‏ تحریر : عتیق الرحمن

‏قومی کھیل کا شاندار ماضی—‏ تحریر : عتیق الرحمن

national games pakistan

‏تحریر : عتیق الرحمن
‏⁦‪@AtiqPTI_1‬⁩
‏کرکٹ سے محبت پاکستان میں کھیلوں کے شائقین کے دلوں پر حاوی ہے۔ کرکٹ کے شوق اور پاکستان کے سرفہرست کرکٹ اسٹیڈیموں کی شہرت کو مدنظر رکھتے ہوئے ، زیادہ تر لوگوں کو یقین کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ فیلڈ ہاکی پاکستان کی قومی کھیل ہے ، خاص طور پر چونکہ کھیل کے شائقین میں اس کھیل کے بارے میں کم ہی بات کی جاتی ہے۔ لیکن حقائق جو ہیں وہ ہیں ، کرکٹ انگلینڈ کی قومی کھیل ہے ، جہاں تفریحی طور پر قومی کھیل کے مقابلے میں کھیلوں کے شائقین میں فٹ بال کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر ان حقائق نے آپ کی دلچسپی پکڑی ہے تو ، پاکستان میں فیلڈ ہاکی کے متعلق تمام متعلقہ تفصیلات کا احاطہ کرتے ہیں ، بشمول کھیل کے بارے میں کچھ تاریخی حقائق ، کھیل کے قواعد ، اور یہاں تک کہ ، کم ہی زیر بحث ، لیکن حیرت انگیز طور پر بنایا گیا ، پاکستان میں ہاکی اسٹیڈیم عام طور پر صرف ہاکی کے نام سے جانا جاتا ہے ، یہ کھیل انگریزوں نے برصغیر پاک و ہند میں لایا اور اپنی آزادی کے بعد پاکستان کی قومی کھیل بن گیا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) پاکستان میں ہاکی سے متعلق ہر چیز کو چلانے والی تنظیم ہے اور 1948 سے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (ایف آئی ایچ) کا رکن ہے۔ پاکستان ایشین ہاکی فیڈریشن (اے ایس ایچ ایف) کے بانی ارکان میں سے ایک ہے جاپان ، ملائیشیا ، بھارت اور جمہوریہ کوریا کے ساتھ 1958میں ٹوکیو میں وجود میں آئی۔

‏ جو بات واقعی قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان ہاکی ورلڈ کپ میں آج تک کی سب سے کامیاب قومی فیلڈ ہاکی ٹیم ہے ، اس کے ہال آف فیم میں چار جیتیں ، اس کے بعد نیدرلینڈ نے تین فتوحات حاصل کیں۔ ٹیم کو اتفاق سے گرین شرٹس کے نام سے جانا جاتا ہے اور لاہور کے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم کو ان کا ہوم گراؤنڈ کہا جاتا ہے۔ یہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ہیڈکوارٹر بھی ہے ، جو قومی مردوں کی ہاکی ٹیم اور قومی خواتین کی ہاکی ٹیم دونوں کی گورننگ باڈی ہے۔ پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم نے 1971 ، 1978 ، 1982 ، اور 1994 میں ہاکی ورلڈ کپ جیتا اور کسی بھی ملک کے مقابلے سب سے زیادہ ورلڈ ہاکی کپ جیتنے والی ٹیم پاکستان ہی ہے۔ گرین شرٹس نے ہاکی ورلڈ کپ کی تاریخ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور یہ بھی سب سے کامیاب قومی ٹیموں میں سے ایک ہے۔ ایشین گیمز 1958 ، 1962 ، 1970 ، 1974 ، 1978 ، 1982 ، 1990 اور 2010 میں کل آٹھ جیت کے ساتھ۔

‏ مزید یہ کہ پاکستان کی ہاکی ٹیم واحد ایشیائی ٹیم بھی ہے جس نے 1978 ، 1980 اور 1994 میں نہ صرف ایک بار بلکہ تین بار ہاکی چیمپئنز ٹرافی (HCT) جیتی ہے۔
‏ قومی فیلڈ ہاکی ٹیم کے سابق کپتان سہیل عباس ، جو دفاع اور پنالٹی کارنر کے ماہر تھے ، انہوں نے 348 گولوں کے ساتھ ‘بین الاقوامی ہاکی میں انفرادی گولوں کی سب سے زیادہ تعداد’ کا عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کیا جو آج تک قائم ہے اور انکا پینالٹی کارنر گول سکور کے بغیر کم ہی دیکھا ہوگا۔ ان کے لئے تین جملے بہت مشہور ہیں جب وہ پینالٹی کارنر لگاتے تھے “گیند پھینکی، گیند رُکی اور یہ گول”
‏ فی الحال ، پاکستانی ہاکی ٹیم ایف آئی ایچ کی طرف سے 17 ویں نمبر پر ہے اور اسکی بنیادی وجہ مالی معاملات اور ہاکی کی مختلف گورنر باڈیز کی آپس میں لڑائیاں ہیں۔ بہت بار تو پاکستان ہاکی فیڈریشن کی ممبرشپ معطل بھی ہوچکی ہے اور اسکی وجہ سیاسی مداخلت ہے۔ ہاکی کو بنیادی طور گراس روٹ لیول سے دوبارہ شروع کرنے ضرورت ہے۔ ملک میں لوکل طور پر ہاکی کے بہت کم میدان دستیاب ہیں اور جو ہیں انکی حالت اتنی خراب ہے کہ بین الاقوامی لیول کی سہولیات نہ ہونے کے برابر اور ان حالات کو دیکھتے ہو نوجوانوں کا رحجان اس کھیل کی طرف بہت کم ہے۔ جو کھلاڑی اس کھیل سے وابستہ ہیں وہ اکثر مالی مشکلات اور نوکری حاصل کرنے میں دشواری کا ذکر کرتے نظر آتے ہیں۔ اتنے کم بجٹ میں کوئی بھی کھیل پروان چڑھنا مشکل ہے جسمیں بین الاقوامی مقابلے کے کھلاڑی نان چنے کھا کر گزارا کر رہے اور کرکٹ کے کھلاڑی عیش و عشرت میں رہتے ہوں جنکی تنخواہ لاکھوں سے شروع ہوتی ہے۔ یہ ہمارا قومی کھیل ہے جسکی ٹیم اول درجے سے اب بیسویں درجے پر پہنچ چکی ہے جو کہ ہمارے لئے باعث شرمندگی ہونا چاہیے۔ اور ہماری ورلڈ چیمپئن رہنے والی ہاکی ٹیم اس سال اولمپکس میں کھیلنے کے لئے کوالیفائی ہی نہ کرسکی لیکن مجال ہے کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو کوئی ہنگامی اجلاس ہوا ہو کوئی پچھ گچھ ہوئی ہو کہ ایسا کیوں ہوا اور ذمہ داران کو فیڈریشن سے نکالا ہو لیکن یہاں تو ایک پتہ بھی نئ ہلا اپنی جگہ سے کیونکہ “مردے او نیں جناں وچ غیرت ہووے
‏بہرحال ہمارے قومی کھیل کا شاندار ماضی رہا ہے ، اولمپک گیمز میں 17 ، ہاکی ورلڈ کپ میں 13 ، ہاکی چیمپئنز ٹرافی میں 31 اور 16 مقابلوں میں ایشین گیمز میں اور یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے

About Azhar Saeed

Leave a Reply