Home / Urdu News اردو نیوز / تازہ ترین / قومی زبان کا نفاذ

قومی زبان کا نفاذ

national language

مہک شفیق
دعا ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم نے اس وقت تک ترقی نہیں کی جب تک اس نے اپنی زبان کو ہر شعبے میں ذریعہ اظہار نہیں بنایا، مگر اس کے برعکس ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ ہم نے انگریزوں اور انگریزی زبان کے سہارے چلنا شروع کیا ہے۔مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہمیں یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ انگریزی سیکھے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔کسی دوسری زبان کو سیکھنا جرم تو نہیں ہے مگر اپنی زبان کو ترک کرکے کسی دوسری زبان کو بہت اہمیت دینا جرم ہو سکتا ہے یا آپ یوں کہہ لیجئے کہ میری نظر میں یہ ایک جرم ہے دنیا کے کئی ممالک میں اپنی زبان کو بہت اہمیت دی جاتی ہے وہ اپنی زبان کو باقاعدہ فروغ دیتے ہیں اور اپنے بچوں کو باقاعدہ طریقے سے سکھاتے ہیں بد قسمتی سے پاکستان میں ایسا ممکن ہی نہیں اس کے علاوہ دوسری زبانوں کو یعنی انگریزی زبان کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔کئی سکولوں اور کالجوں میں اردو زبان یعنی ہماری قومی زبان کی بجائے انگریزی زبان کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے وہاں پر بچوں کو انگریزی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے یہاں تک کہ اسلامیات اور مطالعہ پاکستان بھی کئی یونیورسٹی کالج اور اسکولوں میں اردو زبان کے بجائے انگریزی زبان میں پڑھی جاتی ہے۔ بلکہ ہمارے بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کے ہماری قومی زبان یعنی اردو زبان کی کوئی حیثیت یا معیار ہی نہیں انگریزی زبان کا معیار زیادہ ہے تو پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے بچوں میں انگریزی زبان کے بولنے سے فوقیت زیادہ ہوجاتی ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزی زبان بولیں گے تو ہم پڑھے لکھے لگیں گے اور اس وجہ سے وہ اردو زبان یعنی اپنی قومی زبان بولنا چھوڑ دیتے ہیں ہمیں اپنی قوم زبان یعنی اردو کا معیار بڑھانے کے لئے اپنے اسکول کالج اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ کو یہ تعلیم بچوں کو دینا ہوگی کہ ہماری قومی زبان ہی ہماری پہچان ہے اور اگر ہم ہی اس کو فروغ یا اہمیت نہیں دیں گے تو دوسرے بھی نہیں دیں گے اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی قومی زبان یعنی اردو کو اہمیت دیں تاکہ دوسرے ممالک کے لوگ بھی ہماری قومی زبان کو اہمیت دیں ترکی میں لوگ اپنی زبان کو بہت اہمیت اور فروغ دیتے ہیں وہاں کے لوگوں کو اپنی زبان یعنی ترکش کے علاوہ کوئی اور زبان نہیں آتی اور وہ اس ہی میں بات کرنا پسند کرتے ہیں اور کوریا میں کورین زبان اور اسی طرح ہر ممالک میں اپنی زبان کو بہت اہمیت اور فروغ حاصل ہے ہمیں بھی اپنے زبان کو بہت محبت اور پیار سے بولنا چاہیے اور ایسے بولنی چاہئے کہ دوسرا اس کو سن کر متاثر ہو اور اس کو سیکھنے اور بولنے کی کوشش کریں آخر میں میں یہ اپنے پڑھنے والوں کو کہوں گی اپنی زبان کو بولنے اور اسی کو اپنی پہچان بنائیں۔ بشکریہ ڈیلی پاکستان

About Ayub Ahmad Khosa

Leave a Reply

PHP Code Snippets Powered By : XYZScripts.com