Home / Blogs / پاکستان، پٹرولیم مصنوعات اور عوام

پاکستان، پٹرولیم مصنوعات اور عوام

 


پاکستان میں آئے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان سر اٹھاتا ہے اور عوام پر مہنگائی کا بھوج بڑھ جاتا ہے۔
اگر پٹرول بڑھنے کی وجوہات دیکھی جائیں تو وہ یہ ہیں کہ
پاکستان پٹرول خود نہیں نکالتا بلکہ دوسرے ممالک سے خریدتا ہے۔ اور انٹرنشنل خریداری کا اصول یہ ہے کہ اپنا کاروبار ڈالر میں کیا جائے۔ تو پیٹرول ہم ڈالروں میں خریدتے ہیں۔ اس وقت کرونا بحران کی وجہ سے حالات زندگی معمول کے مطابق نہیں بلکہ ہر چیز متاثر نظر آتی ہے۔ اس وقت پٹرول سپلائی چین بری طرح متاثر ہے جس کی وجہ سے کچھ ممالک میں پٹرول بحران سر اٹھا رہا ہے پیچھلے دنوں برطانیہ جیسے ملک میں پٹرول کا بحران اتنا زیادہ شدت اختیار کر گیا کہ وہاں پر لوگوں کو گھنٹوں گھنٹوں لائنوں میں لگ کر پٹرول خریدنا پڑا، دوسری طرف حکومت نے پٹرول پمپس تک پٹرول کی رسائی ممکن بنانے تک فوج کو زمہ داریاں سونپ دی۔
اور افراتفری کے عالم میں پٹرول کی عالمی منڈی میں پٹرول کی روز اوپر نیچے ہوتی جا رہی ہیں۔
پیچھلے ایک سال میں پٹرول 42 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے۔
اس سلسلے میں پاکستان میں بھی پٹرول کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے پھر دوسری چیزیں بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ حکومت پاکستان پٹرول کی قیمتوں میں ٹیکس انتہائی کم وصول کر رہی ہے تا کہ عام عوام زیادہ متاثر نا ہو بڑھتے ہوئے پٹرول کی قیمتوں کی وجہ سے تاہم قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی کے اثرات واضح نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
لیکن اگر پٹرول کی قیمت کا مقابلہ چند دوسرے ممالک سے کیا جائے تو پاکستان میں اب بھی بہت سے ممالک سے پٹرول کی قیمت ان سے بہت کم ہے جیسا کہ انڈونیشیا میں پر لیٹر پٹرول کی قیمت 134.84 روپے ہے، ترکی میں پٹرول کی پر لیٹر قیمت 151.74 روپے ہے، سری لنکا میں پٹرول کی پر لیٹر قیمت 161.00 روپے ہے، بنگلادیش میں 177.69، نیپال میں 224.12، انڈیا میں 248.67، ہانگ کونگ میں 438 اور پاکستان میں پٹرول کی قیمت ان سب ممالک سے کم 127.30 روپے پر لیٹر ہے۔
اس وقت پاکستان میں ڈالر بھی روپے کے مقابلے میں بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ بھی دن بدن کم ہو رہی ہے اس کی بڑی وجہ مارکیٹ سے اچانک ڈالر کا نکل جانا ہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بنک کوشش کر رہی ہے ڈالر کی بڑھتی قیمت کو کنٹرول کرنے کے لیے۔
عوام کے لیے وزارت خزانہ نے ایک بیان دیا ہے کہ حکومت بہت جلد کوشش کر رہی ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے اور اسی تناظر میں حکومت نے بہت ساری چیزوں میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں آٹا، گھی، ڈالیں، چینی وغیرہ شامل ہیں۔
تاہم امید کی جاتی ہے کے حالات بہت جلد بہتری کی جانب گامزن ہو جائیں گے۔ اور پاکستان ترقی کرنے والے بڑے ممالک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ اور مہنگائی جیسے فیکٹر کو بھی کنٹرول کر لے گا۔
اور پٹرولیم مصنوعات کا تعلق سیدھا عالمی مارکیٹ سے ہوتا ہے اس لیے اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی سطح پر ہوتا ہے یہ چیزیں طلب اور رسد کے حساب سے کم اور زیادہ ہوتیں ہیں اگر پاکستان میں عوام کے ذریعے آمدن اور وسائل بڑھ جائیں یا حکومت اگر نیچلے طبقے کو غربت کی لکیر سے اٹھا لے تو پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اتنا متاثر نہیں کرے گا۔ اس سلسلے میں حکومت کو توجہ دینی چاہیے کہ وہ نوکریاں اور وسائل زیادہ سے زیادہ پیدا کریں تا کہ لوگوں کی آمدن بڑھ جائے۔ اور لوگ متوسط طبقے سے نکل جائیں۔ لیکن ہر کام کے ہونے میں وقت لگتا ہے اس لیے کچھ سال لگے گے آگے بڑھنے میں پر یہ امید کی جا سکتی ہے کہ بحثیت پاکستانی قوم ہم ترقی کی منزلوں تک رسائی حاصل کر لیں گے۔
از قلم: وھاب خان
@Itx_Wahab123

ادارے کا زیر نظر مضمون نگار کی رائے سے متفیق ہونا ضروری نہیں

About Ayub Ahmad Khosa

Leave a Reply