Home / Blogs / بدل رہا ہے پنجاب۔۔۔منزل قریب ہے

بدل رہا ہے پنجاب۔۔۔منزل قریب ہے

بدل رہا ہے پنجاب

محمد رامش اصغر
@MRamishAsghar

وزیراعلی سردار عثمان بزدار اکثر لوگوں کو شاید پسند نہ ہوں لیکن درحقیقت پنجاب میں ایک ایسے ہی شخص کی ضرورت تھی جو میڈیا کی چکا چوند کے پیچھے بھاگنے کی بجائے صرف کام پہ دھیان رکھتا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ پنجاب حکومت سے مرکز کو جو توقعات رہی ہوں گی وہ اور ان کی ٹیم اس سے کہیں بڑھ کے کام کرتے نظر آرہے ہیں۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ماضی میں بلند و بانگ دعوے کیے جاتے رہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس تھے۔ اگر ہم موجودہ حکومت پنجاب کے صرف پہلے تین سالوں کا موازنہ سابقہ حکومتوں کے 35 سالوں کے ساتھ بھی کریں تو یہ غیر مناسب نہ ہوگا۔ پنجاب حقیقی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ عام عادمی کی فلاح و بہبود وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کے زیر قیادت پنجاب حکومت کا اہم خاصہ ہے۔

ماضی کی حکومتوں نے ترقیاتی عمل کو محض چند شہروں اور علاقوں تک محدود رکھا جس کی وجہ سے صوبے کی آبادی کی اکثریت ترقی و خوشحالی سے محروم رہی، لیکن بزدار کی زیر قیادت پنجاب حکومت نے مربوط ترقیاتی حکمت عملی استعمال کی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ کوئی بھی شہر یا علاقہ حکومتی اصلاحات کے فوائد سے محروم نہ رہے۔

اگر صرف شعبہ تعلیم کی بات کی جائے تو 2013 سے لیکر 2018 کے دوران صرف 1200 اسکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا۔ بزدار کی زیر قیادت پنجاب حکومت نے صرف پہلے سال میں 1227 اسکولوں کی بحالی کی ہے، اور اس وقت 27517 اسکولوں کی اپگریڈیشن پر کام جاری ہے۔ پنجاب کے 22 اضلاع میں انصاف آفٹر نون اسکول پروگرام متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت موجودہ پرائمری یا مڈل اسکولوں کو بالترتیب مڈل یا ہائی اسکولوں کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ اسکے علاوہ 43 نئے کالج قائم کیے گئے ہیں؛ مزید 32 کالج رواں ماہ یعنی جون 2021 تک مکمل ہوجائیں گے۔ 205 کالجوں کو 4 سالہ بی ایس پروگرام میں اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

09 عدد نئی یونیورسٹیاں قائم کی جارہی ہیں: چکوال یونیورسٹی؛ میانوالی یونیورسٹی؛ مری میں کوہسار یونیورسٹی؛ بھکر میں تھل یونیورسٹی؛ راولپنڈی خواتین یونیورسٹی؛ لیہ یونیورسٹی؛ ننکانہ صاحب میں بابا گرو نانک یونیورسٹی، حافظ آباد یونیورسٹی، اپلائیڈ انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز (یو اے ای ای ٹی)، سیالکوٹ۔ مزید یہ کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار صوبے کے ہر ضلع میں یونیورسٹی قائم کرنے کا بھرپور عزم رکھتے ہیں۔

اس وقت پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں صحت انصاف کارڈ سے لاکھوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ اب پنجاب کی تمام آبادی کو اس پروگرام میں شامل کرنے کے لئے یونیورسل ہیلتھ کوریج کی طرف قدم بڑھایا جا رہا ہے؛ اسی سلسلہ میں گزشتہ ماہ ڈیرہ غازی خان اور ساہیوال ڈویژن میں یہ سہولت پوری آبادی کو فراہم کر دی گئی ہے۔ اسکے علاوہ ٹی بی، ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے مریضوں کے مفت علاج کے لئے انصاف میڈیسن کارڈ کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔

اس وقت چار بڑے اسپتال تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ آٹھ مزید اسپتال پائپ لائن میں ہیں، جس میں مدر اینڈ چائلڈ کیئر کیلئے جدید سہولیات بھی شامل ہیں۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال، دیہی مراکز صحت، اور بنیادی مراکز صحت کو بھی جدید طرز پر اسطوار کیا جارہا ہے۔ حکومت پنجاب نے 25 ہزار سے زیادہ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کو بھرتی کیا ہے۔ نرسنگ کے تمام 29 اسکولوں کو نرسنگ کالج کی سطح تک اپ گریڈ کر کے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔

پنجاب کے مختلف ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں پناہ گاہیں قائم کی گئیں ہیں تاکہ معاشرے کے پسماندہ طبقے کو دو وقت کے کھانے کے ساتھ عارضی رہائش فراہم کی جاسکے۔ اس سہولت کا دائرہ کار اب صوبے کے دیگر اضلاع اور تحصیلوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔

پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مربوط زرعی پالیسی متعارف کروائی گئی ہے۔ ماڈل زرعی مارکیٹیں قائم کی جارہی ہیں، فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرنے اور تیل پیدا کرنے کی حامل فصلوں کے پودے لگانے کیلئے کسانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے اقدامات کیے گئے ہیں۔ مالی سال 2018 سے لیکر مالی سال 2020 کے دوران الیکٹرانک وائوچرز کے ذریعے 56921 کسانوں میں 511 ملین روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی سربراہی میں پنجاب حکومت کسانوں کو زرعی مقاصد کے لئے نہر کا پانی مہیا کرنے کے لئے پانی کی نہروں کا ایک بڑا نیٹ ورک تیار کرنے پر کام کر رہی ہے۔ 50 اور 60 فیصد فنڈ بالترتیب آبپاشی کی سکیموں اور شمسی نظام کے لئے فراہم کیا جا چکا ہے۔ کاشتکاروں کو زرعی آلات کی خریداری میں مدد کے لئے 47 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ کسانوں کو 17 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرنے کے لئے حال ہی میں کسان کارڈ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ شوگر مافیا کے اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود گنے کے کاشتکاروں کو 99 فیصد ادائیگی یقینی بنائی گئی۔
عوام کو پینے کے صاف پانی فراہم کرنے کے لئے پنجاب آب پاک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ اتھارٹی پینے کے صاف پانی تک آسان رسائی کے لئے صوبے کے مختلف شہروں میں فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب کے لئے کام کر رہی ہے۔ مختلف شہروں میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کا نظام شروع کیا جارہا ہے۔ فیصل آباد، سیالکوٹ، اور ساہیوال میں پانی کو ڈسپوز کرنے کے نظام میں بہتری لانے کا عمل جاری ہے۔ جلالپور کینال 1 لاکھ 70 ہزار ایکڑ رقبے کو قابل کاشت بنائے گی۔ اس نہر سے ضلع جہلم اور خوشاب کے 80 دیہاتوں میں رہنے والے کل 3 لاکھ 84 ہزار افراد مستفید ہوں گے۔

اب تک 458 ارب روپے مالیت کی 1 عشاریہ 6 لاکھ ایکڑ سرکاری اراضی قبضہ مافیا سے بازیاب کروا لی گئی ہے۔ تمام سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر کسی بھی طبقے کی تقسیم کیے بغیر کارروائی جاری ہے۔ سہولیات عوام کی دہلیز پر فراہم کرنے کیلئے 8 ہزار اراضی ریکارڈ سینٹرز قائم کیے جارہے ہیں۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی سربراہی میں پنجاب حکومت نے بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیویز میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کیں۔ سروس ڈیلیوری کو مزید بہتر بنانے کیلئے پولیس خدمت مراکز فعال کیے گئے ہیں۔ ٹورسٹ پولیس کے ساتھ ساتھ 51 اسپیشل تھانوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ محکمہ پولیس میں 10 ہزار کانسٹیبل بھی بھرتی کیے گئے ہیں۔

سات عدد جیلوں میں دس ہزار سے زائد قیدیوں کی رہائش کی گنجائش رکھنے والی کثیر المنزلہ بیرکیں بنائی جارہی ہیں۔ میانوالی میں ایک ہائی سیکیورٹی جیل اور لودھراں میں ایک نئی جیل تعمیر کی جا رہی ہے۔ 21 جیلوں میں پریزنر مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (پی ایم آئی ایس) کو متعارف کرایا گیا ہے۔ ٹیوٹا کے تعاون سے کے ذریعے 16 ہزار سے زائد قیدیوں کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی گئی ہے۔

اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) سے تقریباً ایک ملین ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس وقت بھلوال انڈسٹریل اسٹیٹ میں (182+ پلاٹ)، رحیم یار خان انڈسٹریل اسٹیٹ میں (124+ پلاٹ)، وہاڑی انڈسٹریل اسٹیٹ میں (84+ پلاٹ) قائد اعظم بزنس پارک (85+ پلاٹ)، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی (684+ ایکڑ) فروخت ہو چکے ہیں۔

دریائے راوی اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ 15.58 بلین ڈالر کے معاشی فوائد کے ساتھ خشکی کا شکار دریائے راوی کو نئے سرے سے بحال کرے گا اور اس پراجیکٹ کے تحت گندے پانی کو ٹریٹ کرنے والے 7 عدد پلانٹس کے علاوہ 12 ہائی ٹیک سیٹیز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ 3 بیراجوں کی تعمیر اور 1.8 ملین رہائشی یونٹوں کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔

مین والٹن روڈ کے قریب 228 ایکڑ رقبے پر محیط سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے ہزاروں نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔ پراجیکٹ مکمل ہونے کے بعد تقریباً 1 عشاریہ 228 ارب ڈالر حاصل ہوں گے جس میں سے براہ راست آمدنی تقریباً 7 عشاریہ 6 ارب ہوگی۔ 20 عدد نئے سیمنٹ پلانٹس کا قیام زیر عمل لایا جا رہا ہے۔ نئے سیمنٹ پلانٹس کے قیام سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور تعمیراتی صنعت کو بھی بھرپور فروغ ملے گا۔

بدقسمتی سے ماضی میں سڑکوں کی بحالی اور مرمت کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا جس کے نتیجے میں مختلف لنک سڑکوں کی خستہ حالت ہوگئی۔ وزیراعلیٰ بزدار کی سربراہی میں پنجاب حکومت نے 5 ہزار کلومیٹر لمبی سڑکوں کی مرمت کے لئے رورل ایکسیبلٹی پروگرام فیز 1 اور II کا آغاز کیا ہے۔

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ایک اہم مسئلہ ہے جس نے عام آدمی کو متاثر کیا ہے، اور اس مسئلے کے پیچھے ماضی کی غلط پالیسیوں کے علاوہ بہت سی وجوہات ہیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی سربراہی میں پنجاب حکومت نے رمضان بازاروں میں تین سال لگاتار کھانے پینے کی 18 بنیادی اشیاء سستے داموں مہیا کی ہیں۔ اب ان بازاروں کو سہولت بازاروں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو بھی اشیائے ضروریہ کی سرکاری ریٹ پر فراہمی یقینی بنانے کیلئے سخت ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی زیر قیادت پنجاب حکومت کے پانچ سالہ دور حکومت کی تکمیل کے بعد پنجاب کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ترقی و خوشحالی کے ثمرات عام عوام تک پہنچ جائیں گے، جس کی بدولت پنجاب کے لوگ سردار عثمان بزدار کو عمر بھر یاد رکھیں گے۔

About Ayub Ahmad Khosa

SJPasia

Leave a Reply