Home / World / Middle East and Africa / اسرائیلی وزیر خارجہ کا دورہ مراکش،سفارخانے کا افتتاح بھی کریں گے

اسرائیلی وزیر خارجہ کا دورہ مراکش،سفارخانے کا افتتاح بھی کریں گے

 زيارة تاريخية المغرب
تل ابیب(ویب ڈیسک)اسرائیل کے وزیر خارجہ یو اے ای کے بعد ایک اور مسلم ملک مراکش کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے ہیں ۔ یائر لپیداپنے دورہ مراکش میں رباط میں اسرائیل کے سفارتخانے کا افتتاح بھی کریں گے جس کے بعد وہ کیسابلانکا کی تاریخی یہودی عبادت گاہ ”ٹیمپل بیت ایل“ جائیں گے

وزیر خارجہ یائر لپید اپنے ہم منصب ناصر بوریطہ سے ملاقات کریں گے ،گزشتہ برس دسمبر میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد اعلیٰ سطح کا یہ پہلا دورہ ہے۔

 

خیال رہے کہ اسرائیل اور مراکش کے درمیان سفارتی تعلقات گزشتہ برس دسمبر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کے نتیجے میں ایک معاہدے کے تحت بحال ہوئے تھے جس کی بنا پر امریکا نے مغربی صحارہ کے علاقے پر مراکش کی حاکمیت کو تسلیم کیا تھا۔

יאיר לפיד – Yair Lapid🟠 on Twitter: “نتوجه إلى المغرب غدا في زيارة تاريخية. سندشن مكتب التمثيل الاسرائيلي في الرباط وسنزور الدار البيضاء ونستعيد السلام بين الدولتين والشعبين. أشكر جلالة الملك محمد السادس على جرأته ورؤيته. سنعمل مع فريقه على خلق تعاون اقتصادي وسياحي وثقافي يعبر عن العلاقة التاريخية العميقة بين 🇲🇦 و🇮🇱 pic.twitter.com/G6zF13PE4c / Twitter”

نتوجه إلى المغرب غدا في زيارة تاريخية. سندشن مكتب التمثيل الاسرائيلي في الرباط وسنزور الدار البيضاء ونستعيد السلام بين الدولتين والشعبين. أشكر جلالة الملك محمد السادس على جرأته ورؤيته. سنعمل مع فريقه على خلق تعاون اقتصادي وسياحي وثقافي يعبر عن العلاقة التاريخية العميقة بين 🇲🇦 و🇮🇱 pic.twitter.com/G6zF13PE4c

 

مراکش اسرائیل کو تسلیم کرنے والا چوتھا عرب ملک ہے اور اس سے قبل متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات بحال اور سفری پابندیاں ختم کرچکے تھے۔

 Yair Lapid Visit Morocco

Yair Lapid Visit Morocco

ایک روز قبل اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لپید نے دورے سے متعلق اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ” کل ہم ایک تاریخی دورے کے لیے مراکش جائیں گے۔ رباط میں اسرائیلی نمائندہ دفتر کا افتتاح کریں گے اور کیسابلانکا جائیں گے۔ دونوں ریاستوں کے عوام کے درمیان امن بحال کریں گے۔ میں دلیری اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرنے پر شاہ محمد ششم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان کی ٹیم کے ساتھ مل کر معاشی، سیاحتی اور ثقافتی تعاون پیدا کریں گے جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات کا اظہار کرتا ہے“۔

واضح رہے کہ مراکش اور اسرائیل کے درمیان تعلقات 1990 تک برقرار رہے تھے تاہم اس کے بعد فلسطین میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی مظالم پر تعلقات منقطع ہوگئے تھے جو تقریباً ایک دہائی بعد دوبارہ بحال ہوئے ہیں۔

About Ayub Ahmad Khosa

Leave a Reply